آرمی چیف کی خصوصی ہدایت کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کی تقسیم جاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
آرمی چیف کی خصوصی ہدایت کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کی تقسیم جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 17 August, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)آرمی چیف کی خصوصی ہدایت کے مطابق خیبر پختونخوا کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی جانب سے راشن کی تقسیم جاری ہے۔پاک فوج کے ہیلی کاپٹر خراب موسم کے باوجود بونیر ، شانگلہ اور سوات کے مختلف علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں۔ خواڑ بانڈہ کے علاقے میں راشن پہنچا دیا گیا۔
امدادی سامان میں آٹا ، چاول، دالیں ، ملک پاوڈر، نمک ، چائے کی پتی اور کوکنگ آئل شامل ہے۔پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز دور دراز علاقوں سے زخمیوں ، عورتوں اور بچوں کو محفوظ مقام تک بھی پہنچا رہے ہیں۔ آرمی کے ڈاکٹرز نے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ بھی لگا لیے، جہاں مفت ادویات کی تقسیم جاری ہے۔خیبر پختونخوا کے اضلاع مانسہرہ میں نیل بان اور بٹگرام میں پاک فوج کے فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ متاثرہ عوام کی اطلاع پر فوجی ریلیف ٹیم نیل بان روانہ کی گئی جہاں خراب راستوں کی وجہ سے ٹیم کو پیدل 8 کلومیٹر کا طویل سفر طے کرنا پڑا۔ ٹیم نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی جن میں ایک بچہ اور ایک مرد شامل تھے۔ حالت تشویشناک ہونے پر دونوں کو رورل ہیلتھ کلینک چھتر پلین منتقل کردیا گیا۔
پاک فوج نے علاقے میں میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا جہاں 100سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا۔ مریضوں کو ادویات، ابتدائی طبی سہولیات اور کھانے پینے کی اشیا فراہم کی گئیں جبکہ متاثرہ خاندانوں کو دودھ اور روزمرہ استعمال کی اشیا بھی دی گئیں۔ ریلیف آپریشن کے دوران خراب موسم، لینڈ سلائیڈنگ اور ناقابل رسائی راستے سب سے بڑی رکاوٹ ہیں تاہم فوجی ٹیم نے واپسی پر روڈ کلیئرنس کا کام بھی کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرافغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن 31اگست، رجسٹریشن ختم کرنے کے انتظامات مکمل افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن 31اگست، رجسٹریشن ختم کرنے کے انتظامات مکمل طوفانی بارشیں، بونیر میں شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل، ایک ہی خاندان کے 21افراد جاں بحق کرپشن اور انسانی اسمگلنگ، سابق سرکاری افسر سمیت 2 ملزمان گرفتار بارشوں میں مزید شدت متوقع ہے،3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے حکام کی بریفنگ موت سے پہلے دو بار واش روم کا چکر‘: صحافی خاور حسین کی لاش ملنے سے قبل کیا ہوا؟ مون سون بارشوں نیا سپیل متوقع، اسلام آباد کی مارگلہ ہلز کی ٹریلز بندCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی تقسیم جاری علاقوں میں پاک فوج
پڑھیں:
بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 جولائی ۔2026 ) پاکستان میں بجلی تقسیم کار کمپنیوںکی جانب سے صرف ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے قومی اسمبلی کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی رپورٹ گیا ہے ‘اجلاس یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ایک ارب6کروڑ روپے کا فراڈ کیا گیا جس میں سے صرف13کروڑ روپے کی ریکوری ہوسکی ہے. اجلاس کو بتایا گیاکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے (ڈسکوز)کی جانب سے جان بوجھ کر اوورریڈنگ کی اور غیرقانونی طورپر سب سے اضافی بلنگ لاہور الیکٹرک کمپنی لیسکو نے کی جو45ارب روپے ہے.(جاری ہے)
آڈیٹرجنرل آفس کے حکام نے سیکرٹری پاورڈویژن کی جانب سے صارفین سے اووربلنگ کی مد میں حاصل کی جانے والی47ارب81کروڑ روپے کی واپسی کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہاکہ ”ڈسکوز“کی جانب سے صرف انہی صارفین کو اووربلنگ کی رقم واپس کی جاتی ہے جو اس کے لیے درخواست دیتے ہیں اور کمپنیوں کی جانب سے اووربلنگ کی واپسی کا عمل پچیدہ‘طویل اور جانبدار ہونے کی وجہ سے صارفین کی بہت کم تعداد اضافی رقم کی واپسی کے لیے ”ڈسکوز“سے رجوع کرتی ہے‘رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے بطور ریگولیٹری اتھارٹی ”نیپرا“اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور اتھارٹی نے صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے تقسیم کار کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کیا‘رپورٹ میں ”نیپرا“اور پاورڈویژن کے کردار پر بہت سارے سوالات اٹھائے گئے ہیں.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے مجموعی طور پر ”ڈسکوز“نے90کروڑ40لاکھ یونٹ کی اووربلنگ کی گئی‘ اجلاس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں130 گھوسٹ ملازمین کے ناموں پرایک ارب چھ کروڑ نکلوایا گیا کمپنی نے جواب میں بتایا کہ گھوسٹ ملازمین کے معاملے میںملوث تین اکاﺅنٹس افسر اورایک فناس ڈیپارٹمنٹ کے افسر کو برطرف کردیاگیا ہے ‘ان ملازمین کے خلاف مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں کمپنی نے بتایا کہ اب تک 13کروڑ کی جاچکی ہے. پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے تمام ڈسکوزکے ملازین کی تنخواہیں ڈیجٹل طریقے سے ادا کرنے سے ہدایت سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ پاورڈویژن دو تقسیم کارکمپنیوں کوئٹہ الیکٹرک کمپنی اور ٹرائبل ایریا الیکٹرک کمپنی کے علاوہ باقی تمام ”ڈسکوز“کی مرحلہ وار نجکاری کرنے جارہی ہے . آڈٹ حکام کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے اپنی نااہلی، لائن لاسز اور بجلی چوری کو چھپانے کے لیے عوام کی جیبوں پر 47 ارب 81 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ ڈالا‘ بجلی کمپنیوں نے میٹر ریڈنگ میں ہیرا پھیری اور اوور بلنگ کے ذریعے صرف ایک ماہ کے اندر 2 لاکھ 78 ہزار 649 صارفین سے یہ خطیر رقم چھینی آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈسکوز نے دانستہ طور پر غلط اور زائد میٹر ریڈنگ کر کے صارفین کو کروڑوں اضافی یونٹس کے بل بھیجے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں نے اپنے ٹیکنیکل نقصانات (لائن لاسز) اور بجلی چوری کا خسارہ پورا کرنے کے لیے عام شہریوں پر اضافی لوڈ ڈال دیا ‘آڈٹ حکام کا کہنا ہے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے 45 ارب روپے کی اوور بلنگ کا اعتراف کیاہے اسی طرح پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے بھی میٹرریڈنگ میں ہیراپھیری کا اعتراف کیا ہے . حکام نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ ایک سال کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بجلی چوری کی وجہ سے مجموعی طور پر 472 ارب روپے کا نقصان ہوا جس میں 265 ارب روپے ترسیل و تقسیم اور 207 ارب روپے بلوں کی کم وصولی کی وجہ سے ڈوب گئے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”ڈسکوز“میں اربوں روپے ماہانہ کی ہیراپھیریوں میں ان کمپنیوں کے سربراہان اور اعلی افسران سے لے کر نچلے درجے کے ملازمین شامل ہوتے ہیں‘لیسکو کی جانب سے رواں سال جون اور جولائی کے مہنیوں میں اربوں روپے کی اووربلنگ کی ہے تاہم اس کی آڈٹ رپورٹ 2027میں سامنے آئے گی. لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے بلنگ امورسے متعلق شعبے کے ایک سابق اعلی افسرنے نام ظاہر نہ کرنے شرط پر بتایا کہ ”ڈسکوز“سب سے زیادہ اووربلنگ گرمیوں کے تین مہینوں جون‘جولائی اور اگست میں کرتی ان مہینوں میں صارفین بجلی کا زیادہ استعمال کررہے ہوتے ہیں اس لیے اکثریت اس ڈاکے پر دھیان نہیں دیتی‘ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے ان تین مہینوں کے دوران ڈویژن کی سطح پر ”ٹارگٹ“مقرر کیئے جاتے ہیں جہاں سے سب ڈویژن کے ذریعے میٹرریڈرزکو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کتنے اضافی یونٹس صارفین کے کھاتے میں ڈالنا ہیں‘انہوں نے کہاکہ یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اب یہ اس لیے نوٹس کیا جارہا ہے کہ بجلی قیمتیں اور ٹیکس غیرمعمولی حد تک بڑھ چکے ہیں اس لیے چند اضافی یونٹس بھی ریکارڈ پر آجاتے ہیں.