ایم کیو ایم رہنما انیس قائم خانی کا صحافی خاور حسین کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
اپنے بیان میں ایم کیو ایم رہنما نے ڈان نیوز انتظامیہ اور صحافتی برادری سے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، صحافیوں کو ان کے فرائض کی انجام دہی میں مکمل تحفظ دیا جانا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما انیس قائم خانی نے ڈان نیوز کے سینئر رپورٹر خاور حسین کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انیس قائم خانی نے کہا کہ خاور حسین کا انتقال صحافتی دنیا کا ایک بڑا نقصان ہے، وہ ایک محنتی، مخلص اور باصلاحیت صحافی تھے جن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں وہ خاور حسین کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں اور مرحوم کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ ایم کیو ایم رہنما نے ڈان نیوز انتظامیہ اور صحافتی برادری سے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، صحافیوں کو ان کے فرائض کی انجام دہی میں مکمل تحفظ دیا جانا چاہیئے۔ انیس قائم خانی نے مزید کہا کہ واقعے کی شفاف انکوائری ہونی چاہیے تاکہ حقائق جلد از جلد عوام کے سامنے آ سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔