بارشوں کے بعد راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند، سپل ویز کھول دیئے گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
بارشوں کے بعد راول ڈیم میں پانی کی سطح بلند، سپل ویز کھول دیئے گئے WhatsAppFacebookTwitter 0 17 August, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)حالیہ بارشوں کے باعث راول ڈیم میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، ڈیم میں پانی کی سطح 1751اعشاریہ 50 فٹ تک پہنچنے کے بعد سپل ویز کھول دیئے گئے۔
ضلعی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کر لئے گئے تھے اور اسسٹنٹ کمشنرز، مجسٹریٹس اور امدادی عملہ فیلڈ میں موجود تھا۔انتظامیہ کے مطابق سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہنگامی اقدامات جاری ہیں، سید پور ولیج اور چٹھہ بختاور سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں نکاسی آب کا کام جاری ہے، شہریوں کو ہنگامی صورتحال میں 16 پر رابطہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔انتظامیہ نے قریبی علاقوں کے مکینوں کو الرٹ رہنے اور ندی نالوں کے قریب نہ جانے کی بھی ہدایت جاری کر دی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں موسلادھار بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آنے سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، جڑواں شہروں میں چٹھہ بختاور، کری روڈ ، صادق آباد اور دیگر علاقوں میں پانی جمع ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراجیت دوول اورامیت شاہ بھارتی حکومت اور مودی کو لے ڈوبیں گے، محسن نقوی اجیت دوول اورامیت شاہ بھارتی حکومت اور مودی کو لے ڈوبیں گے، محسن نقوی سیلاب متاثرین کیلئے ہمارے پاس وسائل موجود ، کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، علی امین گنڈاپور آرمی چیف کی خصوصی ہدایت کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کی تقسیم جاری افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن 31اگست، رجسٹریشن ختم کرنے کے انتظامات مکمل طوفانی بارشیں، بونیر میں شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل، ایک ہی خاندان کے 21افراد جاں بحق بارشوں میں مزید شدت متوقع ہے،3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے حکام کی بریفنگCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈیم میں پانی کی سطح بارشوں کے
پڑھیں:
پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیاایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشنماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکماقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔
معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفتریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔
واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔
پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں