پاکستان میں سیلاب سے تباہی ، چین ہر مشکل میں مدد کرنے کےلئے تیار ہے ، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
پاکستان میں سیلاب سے تباہی ، چین ہر مشکل میں مدد کرنے کےلئے تیار ہے ، چینی وزیر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 August, 2025 سب نیوز
بیجنگ:چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پاکستان میں شدید بارشوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی پر پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ہمدردی کا پیغام بھیجا۔
منگل کے روز اپنے پیغام میں وانگ ای نے قدرتی آفت کے باعث ہلاک ہونے والوں سے گہری ہمدردی اور ان کے اہل خانے اور تمام متاثرین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت دار کی حیثیت سے چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر مشکل میں مدد کرنے کیلئے تیار ہے۔ وانگ ای نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستانی حکومت کی قیادت میں پاکستانی عوام یقینی طور پر اس آفت پر قابو پا لیں گے اور جلد از جلد اپنے گھر بار دوبارہ تعمیر کر لیں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر2024 کےاختتام تک چینی کھلاڑیوں نے ملک کی ’’14 ویں پانچ سالہ منصوبہ بندی‘‘کی مدت کے دوران کل 519 عالمی چیمپیئن شپس جیتی ہیں اگلی خبرچین اور بھارت کو تعلقات کی بہتری کو مستحکم کرنا ہوگا، چینی وزیر خارجہ نو مئی مقدمات؛ چیف جسٹس پاکستان کا فریقین کو دستاویزات جلد جمع کروانے کی ہدایت جاپان سے صفائی اور ماحول کی بہتری کے لیے ٹیکنالوجی لیں گے: مریم نواز وزیراعظم کا سیلاب متاثرین کے لیے وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان ابھی 26ویں آئینی ترمیم ہضم کررہے ہیں،27ویں کی ضرورت نہیں، اسحاق ڈار سیلاب متاثرین کو امدادی رقوم کی ادائیگی کیسے ہوگی؟ خیبرپختونخوا حکومت نے بتادیا تجارت پر مذاکرات کی کامیابی کیلئے بھارت کو روسی خام تیل کی خریداری لازمی بند کرنی ہوگی، امریکہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چینی وزیر خارجہ
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔