وزارتِ منصوبہ بندی نے اُڑان پاکستان کے تحت اُڑان اے آئی ٹیکاتھون کا آغاز کرد یا
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان کی ڈیجیٹل تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا، وزارتِ منصوبہ بندی نے اپنے فلیگ شپ پروگرام اُڑان پاکستان کے تحت اُڑان اے آئی ٹیکاتھون کا آغاز کرد یا
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا ٹیکاتھون صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو پاکستان کی نئی نسل کو مصنوعی ذہانت جیسے جدید علم میں متحرک کرے گی۔
پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کوڑا دان کی تنصیب لازمی قرار
احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان مصنوعی ذہانت کے عالمی انقلاب میں تماشائی نہیں بلکہ ابھرتا ہوا رہنما ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کو متحرک کرنے، قومی استعداد کار میں اضافہ کرنے اور عالمی سطح پر پاکستان کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی صف میں نمایاں کرنے کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل نہیں بلکہ حال ہے جو صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور طرزِ حکمرانی کے ہر شعبے کو بدل رہی ہے۔ آج معیشتوں کو تشکیل دینے والے فیصلے ایوانوں میں نہیں بلکہ الگوردھمز میں ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس، مقدمات کے فیصلوں کیلئے سخت، تیز رفتار ٹائم لائنز مقرر
احسن اقبال نے بتایا کہ ٹیکاتھون کے لیے ایک خصوصی آن لائن پورٹل قائم کیا گیا ہے جو رجسٹریشن، معلومات، رابطے اور تمام انتظامات کے لیے مرکزی مرکز کی حیثیت رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔