ورکرز ویلفیئر بورڈز سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
مستقل سیکریٹری کی عدم تعیناتی ،گورننگ بورڈ کی منظوری کے بغیراربوں کے ٹینڈرجاری کردیے گئے،ذرائع
ایڈیشنل سیکرٹری رفیق قریشی کیخلاف گورننگ باڈی میں شامل افسران نے سندھ حکومت کو خطوط لکھ دیے
ورکرز ویلفیئر بورڈز سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن کاانکشاف ہوا ہے ۔ مستقل سیکریٹری کی عدم تعیناتی کے باعث ایڈیشنل سیکرٹری رفیق قریشی نے گورننگ بورڈ کی منظوری کے بغیراربوں روپے کے ٹینڈرجاری کردیئے۔ذرائع کے مطابق گورننگ باڈی میں شامل افسران نے سندھ حکومت کو خطوط لکھے ہیں ۔جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیبرکالونی اوراسکولوں کی تزئین وآرائش کے نام پرغیرمعروف اخبارات میں اشتہارات دیئے گئے ۔لیبر کالونی،27اسکول اور 2کالجز کی تزئین وآرائش کیلئے ٹینڈرجاری کیاگیا۔جس کمپنی کو ٹینڈرجاری کیاگیا وہ بھی 2025میں رجسٹرڈ کی گئی ہے۔ریکارڈ کے مطابق کسی بھی جگہ تزئین وآرائش کا کام نہیں ہورہا ہے۔کمپنی کو چند دن میں اربوں روپے بھی جاری کردئیے گئے۔واضح رہے کہ ورکرزویلفیئرفنڈ 2014 سندھ اسمبلی نے منظور کیاتھا۔آرڈیننس کے مطابق بورڈ کا چیئرمین یا سیکرٹری گورننگ باڈی کی منظوری کے بغیرکوئی فیصلہ نہیں کرسکتا۔خط کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری نے ٹینڈرجاری کرنے سے پہلے کوئی اجلاس بھی نہیں بلایا۔شیریں جناح کالونی میں ورکرزویلفیئرسندھ کی عمارت 80کروڑ روپے میں خریدی گئی۔اس علاقے میں عمارت کی مجموعی ویلیو 20 سے 40 کروڑ کے قریب ۔ورکرزویلفیئربورڈ سندھ کے ریکارڈ کوکمپیوٹرائزڈ کرنے کا ٹینڈر45کروڑ میں دیاگیا۔ٹینڈر دیتے ہوئے پیپرا رولز پر عملدرآمد نہیں کیاگیا اور نہ گورننگ باڈی سے منظوری لی گئی ۔ایڈیشنل سیکرٹری رفیق قریشی نے ملازمین کی خلاف قانون 8 ارب روپے کی ییلتھ انشورنس کی منظوری دے دی۔ایڈیشنل سیکرٹری گریڈ بیس میں سیکرٹری لیبرکے طورپرتعینات ہیں۔سندھ حکومت نے گیارہ ماہ پہلے انہیں ورکرزویلفیئربورڈکا اضافی چارج دیاگیاتھا۔ورکرز ویلفیئربورڈ سندھ مزدوروں کی فلاح وبہبودکیلئے بنایاگیاہے۔صوبائی اینٹی کرپشن نے محکمہ میں کرپشن کے الزامات پرتحقیقات کیلئے بھی متعلقہ افسران کوطلب کررکھاہے۔قانون کے مطابق حالت مجبوری چھ مہینے سے زیادہ کا کسی افسر کو ایڈیشنل چارج نہیں مل سکتا یہ 11 مہینے سے ایڈیشنل چارج دے رکھا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایڈیشنل سیکرٹری گورننگ باڈی کی منظوری کے مطابق
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل