اے سے بی میں آنیوالے کھلاڑیوں کو کتنا مالی نقصان ہوا اور بی کیٹیگری کا معاوضہ کتنا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
لاہور:قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹ کی سی اور ڈی کیٹیگری کے معاوضوں میں اضافہ کردیا گیا ہے لیکن اے سے بی کیٹیگری میں آنے والے کھلاڑیوں کو اچھا خاصہ مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
سی کیٹیگری میں قومی کرکٹرز کو اب 20 لاکھ کے بجائے 25 لاکھ روپے ماہانہ ملیں گے جب کہ ڈی کیٹیگری میں قومی کرکٹرز کو اب 12 لاکھ کے بجائے 15 لاکھ روپے ماہانہ ملیں گے۔
بی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کے ماہانہ معاوضے میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، بی کیٹیگری کو 45 لاکھ کے قریب ماہانہ معاوضہ دیا جاتا تھا جو اب بھی وہی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اے کیٹیگری میں شامل کھلاڑیوں کو 65 لاکھ روپے مہینہ ملتا تھا، گزشتہ برس اے کیٹیگری میں بابراعظم اور محمد رضوان شامل تھے، اب اے سے بی میں آنے والوں کے کم از کم 20 لاکھ روپے مہینہ کم ہوئے ہیں، یعنی بابر اور رضوان کو 20 لاکھ روپے ماہانہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
سینٹرل کانٹریکٹ میں کوئی بھی کھلاڑی اے کیٹیگری کے معیار پر پورا نہیں اترسکا، اسی لیے اس سال اے کیٹیگری کو ختم کردیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کیٹیگری میں بی کیٹیگری اے کیٹیگری لاکھ روپے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔