یوکرین کے لیے نیٹو طرز کی سکیورٹی ضمانتیں زیر بحث ہیں، مارک رُٹے
اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 اگست 2025ء) واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد رُٹے نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ نے یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتوں کے تصور میں شرکت کے لیے اپنی رضامندی کا اشارہ دیا ہے، جس میں آرٹیکل پانچ جیسی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ‘‘یہاں جس چیز پر ہم بحث کر رہے ہیں، وہ نیٹو کی رکنیت نہیں ہے۔ ہم یوکرین کے لیے آرٹیکل پانچ قسم کی سکیورٹی ضمانتوں پر بات کر رہے ہیں۔‘‘
نیٹو کے سربراہ نے مزید کہا، ’’اور ان میں کیا کیا شامل ہو گا، اس پر اب مزید خاص طور پر بات چیت کی جائے گی۔
(جاری ہے)
‘‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زمینی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے واشنگٹن میں کوئی بات نہیں ہوئی، ساتھ ہی انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کو ایک کامیابی قرار دیا۔
زیلنسکی نے نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ کی بنیاد پر مغرب سے امداد کی ضمانتیں طلب کی ہیں اور سربراہی اجلاس سے قبل کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے نیٹو طرز کی سکیورٹی ضمانتیں ضروری ہیں۔
مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے معاہدے میں آرٹیکل پانچ باہمی دفاع سے متعلق شق ہے، جس کے تحت نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملے کا دفاع تمام نیٹو ممالک کریں گے۔ یوکرین کے لیے نیٹو طرز کی سکیورٹی ضمانتیں زیر بحث ہیں، رُٹے
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے بعد رُٹے نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ امریکہ نے یوکرین کے لیے سکیورٹی ضمانتوں کے تصور میں شرکت کے لیے اپنی رضامندی کا اشارہ دیا ہے، جس میں آرٹیکل پانچ جیسی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ‘‘یہاں جس چیز پر ہم بحث کر رہے ہیں، وہ نیٹو کی رکنیت نہیں ہے۔ ہم یوکرین کے لیے آرٹیکل پانچ قسم کی سکیورٹی ضمانتوں پر بات کر رہے ہیں۔‘‘
نیٹو کے سربراہ نے مزید کہا، ’’اور ان میں کیا کیا شامل ہو گا، اس پر اب مزید خاص طور پر بات چیت کی جائے گی۔‘‘
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زمینی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے واشنگٹن میں کوئی بات نہیں ہوئی، ساتھ ہی انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کو ایک کامیابی قرار دیا۔
زیلنسکی نے نیٹو معاہدے کے آرٹیکل پانچ کی بنیاد پر مغرب سے امداد کی ضمانتیں طلب کی ہیں اور سربراہی اجلاس سے قبل کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے نیٹو طرز کی سکیورٹی ضمانتیں ضروری ہیں۔
مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے معاہدے میں آرٹیکل پانچ باہمی دفاع سے متعلق شق ہے، جس کے تحت نیٹو کے کسی رکن ملک پر حملے کا دفاع تمام نیٹو ممالک کریں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سکیورٹی ضمانتوں میں آرٹیکل پانچ یوکرین کے لیے واشنگٹن میں ضمانتوں پر کر رہے ہیں انہوں نے نیٹو کے پر بات
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔