کراچی سے لاہور پہلی بلٹ ٹرین چلانے کا منصوبہ سامنے آگیا، رفتار کیا ہوگی؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, August 2025 GMT
کراچی:
پاکستان ریلوے نے لاہور سے کراچی کے درمیان بلٹ ٹرین منصوبے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت دونوں شہروں کے درمیان سفر کا دورانیہ 20 گھنٹوں سے کم ہو کر صرف 5 گھنٹے رہ جائے گا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق لاہور سے کراچی تیز رفتار بلٹ ٹرین 2030 تک چلانے کا منصوبہ ہے۔
بلٹ ٹرین منصوبہ 1215 کلومیٹر طویل ہائی اسپیڈ ریل لائن چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت 6.
وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق اس منصوبے میں چین کی معاونت شامل ہوگی اور اسے چائنا ریلوے کنسٹرکشن کارپوریشن کی مدد سے مکمل کیا جائے گا۔
بلٹ ٹرین کی رفتار 250 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ہوگی، جبکہ اس کا راستہ حیدرآباد، ملتان اور ساہیوال جیسے اہم شہروں سے گزرے گا۔ منصوبے میں دہری نئی پٹڑیوں کی تنصیب، پرانے پلوں کی ازسر نو تعمیر اور جدید سگنلنگ سسٹم کی تنصیب شامل ہے۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف عوام کے لیے تیز، آرام دہ اور محفوظ سفر فراہم کرے گا بلکہ اس سے ہزاروں ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اس کے علاوہ، ریلوے کے ذریعے مال برداری کی شرح موجودہ 4 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد تک کی جائے گی، جس سے مہنگے زمینی ٹرانسپورٹ پر انحصار کم ہوگا اور ایندھن کی درآمد پر اربوں روپے کی بچت متوقع ہے۔
اسی سلسلے میں رواں سال وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور سے راولپنڈی کے درمیان بلٹ ٹرین منصوبے کی منظوری بھی دی ہے، جس سے دونوں شہروں کے درمیان سفر صرف 2.5 گھنٹے میں طے کیا جا سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ