غزہ کے النصر اسپتال میں اسرائیل نے خون کی ہولی کھیلی؛ شہید صحافیوں کی تعداد 6 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
جارحیت پسند اسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو روندتے ہوئے غزہ کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین مقام بنادیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی کی النصر اسپتال میں بمباری میں اور خان یونس میں فائرنگ سے شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 4 سے بڑھ کر چھ ہوگئی۔
شہید ہونے والے چھٹے صحافی کو خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی افواج نے گولی کا نشانہ بنایا۔ صحافی کی شناخت حسن دوہان کے نام سے ہوئی جو ماہر تعلیم بھی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق حسن دوہان اخبار الحیاۃ الجدیدہ کے لیے صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے تھے اور سوشل میڈیا پر کافی متحرک تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ان کی سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹیں ہی ان کی شناخت اور شہادت کا باعث بنیں۔ اسرائیلی فوج نے آزادیٰ اظہار رائے کو کچل کر رکھ دیا۔
آج دن میں غزہ کے مرکزی النصر اسپتال پر بمباری میں پہلے چار صحافیوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی تھی۔
جن میں رائٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری، ایسوسی ایٹڈ پریس اور برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی نامہ نگار مریم ابودقہ، امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی کے رپورٹر ابوطحٰہ اور الجزیرہ کے فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ شامل ہیں۔
بعد ازاں قدس نیوز ایجنسی کے نمائندے احمد ابو عزیز بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔ اس طرح تعداد 5 ہوگئی تھی۔
یہ سب صحافی جنگ زدہ ماحول میں دنیا کو سچ دکھانے کی جدوجہد کر رہے تھے، لیکن اسرائیلی گولہ باری نے ان کی آوازیں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیں۔
صحافی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات کو آزادی اظہار پر حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا نمائندوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل دنیا کے سامنے حقائق آنے نہیں دینا چاہتا۔
اسرائیل کی اس بمباری میں صحافیوں کے علاوہ کم از کم 20 دیگر افراد بھی شہید ہوگئے تھے جن میں اکثریت طبی عملے اور ریسکیو اہلکاروں کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل میرب علی نے حال ہی میں اپنی صحت سے متعلق ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں انگلی کے مسئلے کے باعث سرجری کروانا پڑی، جس کے بعد وہ اسپتال میں زیرِ علاج رہیں۔
میرب علی نے سوشل میڈیا پر مداحوں کو اپنی طبی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اداکارہ کے مطابق ان کی ایک انگلی میں حرکت محدود ہو گئی تھی اور وہ بار بار لاک ہو جاتی تھی، جس کے باعث روزمرہ امور انجام دینا مشکل ہو رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر ماہر امراضِ جوڑ (رہیومیٹولوجسٹ) اور نیورولوجسٹ نے انہیں صحت مند قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں آرتھوپیڈک سرجن نے مکمل معائنے کے بعد سرجری تجویز کی۔
میرب علی کے مطابق انہیں توقع تھی کہ یہ ایک معمولی اور مختصر نوعیت کا آپریشن ہوگا، لیکن سرجری ان کی توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور وقت طلب ثابت ہوئی۔ یہ آپریشن کراچی کے آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں انجام دیا گیا، جہاں انہوں نے علاج کے دوران اپنی ایک ویڈیو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔
View this post on Instagramاداکارہ نے بتایا کہ سرجری کے بعد اب وہ بتدریج صحت یاب ہو رہی ہیں، جبکہ ان کے دوستوں، ساتھی فنکاروں اور مداحوں کی جانب سے نیک خواہشات اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
شوبز شخصیات میں مایا خان، درفشاں سلیم، ثناء فہد اور رابعہ کلثوم سمیت متعدد فنکاروں نے میرب علی کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اداکارہ کو آرام کرنے اور موبائل فون کے زیادہ استعمال سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تاکہ انگلی پر مزید دباؤ نہ پڑے۔
بعض مداحوں کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی طبی شکایت بعض اوقات کھیلوں یا ہاتھوں کے مسلسل استعمال کے باعث بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اداکارہ کی جانب سے صحت سے متعلق یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد مداح ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں۔