جارحیت پسند اسرائیل نے تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو روندتے ہوئے غزہ کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین مقام بنادیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی کی النصر اسپتال میں بمباری میں اور خان یونس میں فائرنگ سے شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد 4 سے بڑھ کر چھ ہوگئی۔

شہید ہونے والے چھٹے صحافی کو خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی افواج نے گولی کا نشانہ بنایا۔ صحافی کی شناخت حسن دوہان کے نام سے ہوئی جو ماہر تعلیم بھی ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق حسن دوہان اخبار الحیاۃ الجدیدہ کے لیے صحافتی ذمہ داریاں نبھاتے تھے اور سوشل میڈیا پر کافی متحرک تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ان کی سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹیں ہی ان کی شناخت اور شہادت کا باعث بنیں۔ اسرائیلی فوج نے آزادیٰ اظہار رائے کو کچل کر رکھ دیا۔

آج دن میں غزہ کے مرکزی النصر اسپتال پر بمباری میں پہلے چار صحافیوں کی شہادت کی تصدیق کی گئی تھی۔

جن میں  رائٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری، ایسوسی ایٹڈ پریس اور برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی نامہ نگار مریم ابودقہ، امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی کے رپورٹر ابوطحٰہ اور الجزیرہ کے فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ شامل ہیں۔

بعد ازاں قدس نیوز ایجنسی کے نمائندے احمد ابو عزیز بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے۔ اس طرح تعداد 5 ہوگئی تھی۔

یہ سب صحافی جنگ زدہ ماحول میں دنیا کو سچ دکھانے کی جدوجہد کر رہے تھے، لیکن اسرائیلی گولہ باری نے ان کی آوازیں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیں۔

صحافی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان واقعات کو آزادی اظہار پر حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا نمائندوں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل دنیا کے سامنے حقائق آنے نہیں دینا چاہتا۔

اسرائیل کی اس بمباری میں صحافیوں کے علاوہ کم از کم 20 دیگر افراد بھی شہید ہوگئے تھے جن میں اکثریت طبی عملے اور ریسکیو اہلکاروں کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • کراچی میں ہواؤں کی رفتار کم ہوگئی، درجہ حرارت بڑھنے کا امکان
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم