نومولود جیسے ہی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے، فوراً ہی گردوپیش کے ماحول سے سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کے لیے وہ اپنے ذہن کے ساتھ ساتھ اپنی تمام حسیں بروئے کار لاتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کی نشوونما اور ان کے سیکھنے کے عمل میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان میں جسمانی مضبوطی کے ساتھ ان کا ذہن بھی مختلف چیزوں کو اپنے حساب سے سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔
اس طرح وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ماحول اور اردگرد کے لوگوں کو سمجھنے لگتے ہیں۔ خاص طور پر ماں، باپ اور بہن بھائیوں کے چہروں سے واقف ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ اپنی ضروریات کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح اظہار کرنے لگتے ہیں، جسے قریبی لوگ جان جاتے ہیں کہ اب یہ بھوکا ہے یا اسے نیند آرہی ہے وغیرہ۔
اسی طرح بچوں کی قوت گویائی کا معاملہ ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ وہ اپنے بولنے کی منازل کی بھی طے کرتے ہیں۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ یا آوازوں سے اپنا مدعا بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر اشاروں کے ذریعے اِبلاغ کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں، جس کے جواب میں والدین بھی ان ہی کی زبان اور اشاروں میں اپنی بات کہتے اور ان کی باتوں کا جواب دیتے ہیں۔
اشاروں کے ذریعے اپنی بات کرنے اور سمجھنے والے اکثر بچوں کے والدین اس بات پر متفکر رہتے ہیں کہ ان کا بچہ بول نہیں رہا اور اشاروں کے ذریعے کام چلا رہا ہے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ شاید ذہنی کمزوری کی بنا پر ایسا ہے، کیوں کہ اکثر والدین بولنے نہ آنے کی وجہ سے بچے کا اسکول میں بھی داخلہ نہیں کراتے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اشارے سمجھنے والے بچے زیادہ ذہین اور بہترین صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔
اوائل عمری میں اشاروں کے ذریعے ابلاغ بعد میں ان کے بہتر بولنے کے عمل کی نشان دہی کرتا ہے۔ 16 ماہ یا اس سے بھی چھوٹی عمر میں اشارے سمجھنے والے بچے بڑے ہو کر بہتر لسانی صلاحیتوں کے مالک بنتے ہیں۔ جو بچے اس عمر میں اشارے سمجھتے ہیں یا تھوڑا بہت اشارہ کر لیتے ہیں اور چار برس کی عمر تک بہترین لسانی صلاحیتیں حاصل کر لیتے ہیں۔ ان بچوں میں کسی بھی زبان جو جلد سیکھنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے اور ان کا ذخیرۂ الفاظ بھی اپنے ہم عمروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
ایسے بچے اسکول میں بھی بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سب سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ایسے بچے لڑائی جھگڑے سے بھی دور رہتے ہیں اور ان میں کچھ نیا کرنے کی خواہش بھی ہوتی ہے۔ اس لیے چھوٹے بچوں کی اشاروں کی زبان کو ان کی ذہانت کی علامت سمجھتے ہوئے انہیں زیادہ بہتر سیکھنے کے مواقع دینے چاہئیں تاکہ وہ اپنی ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اشاروں کے ذریعے کرتے ہیں کے ساتھ
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم