Express News:
2026-07-24@12:30:12 GMT

ننھّے مُنوں کی ذہانت

اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT

نومولود جیسے ہی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے، فوراً ہی گردوپیش کے ماحول سے سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کے لیے وہ اپنے ذہن کے ساتھ ساتھ اپنی تمام حسیں بروئے کار لاتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کی نشوونما اور ان کے سیکھنے کے عمل میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان میں جسمانی مضبوطی کے ساتھ ان کا ذہن بھی مختلف چیزوں کو اپنے حساب سے سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔

اس طرح وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ماحول اور اردگرد کے لوگوں کو سمجھنے لگتے ہیں۔ خاص طور پر ماں، باپ اور بہن بھائیوں کے چہروں سے واقف ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ اپنی ضروریات کے حوالے سے کسی نہ کسی طرح اظہار کرنے لگتے ہیں، جسے قریبی لوگ جان جاتے ہیں کہ اب یہ بھوکا ہے یا اسے نیند آرہی ہے وغیرہ۔ 

اسی طرح بچوں کی قوت گویائی کا معاملہ ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ وہ اپنے بولنے کی منازل کی بھی طے کرتے ہیں۔ ٹوٹے پھوٹے الفاظ یا آوازوں سے اپنا مدعا بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اکثر اشاروں کے ذریعے اِبلاغ کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں، جس کے جواب میں والدین بھی ان ہی کی زبان اور اشاروں میں اپنی بات کہتے اور ان کی باتوں کا جواب دیتے ہیں۔

اشاروں کے ذریعے اپنی بات کرنے اور سمجھنے والے اکثر بچوں کے والدین اس بات پر متفکر رہتے ہیں کہ ان کا بچہ بول نہیں رہا اور اشاروں کے ذریعے کام چلا رہا ہے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ شاید ذہنی کمزوری کی بنا پر ایسا ہے، کیوں کہ اکثر والدین بولنے نہ آنے کی وجہ سے بچے کا اسکول میں بھی داخلہ نہیں کراتے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اشارے سمجھنے والے بچے زیادہ ذہین اور بہترین صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔

اوائل عمری میں اشاروں کے ذریعے ابلاغ بعد میں ان کے بہتر بولنے کے عمل کی نشان دہی کرتا ہے۔ 16 ماہ یا اس سے بھی چھوٹی عمر میں اشارے سمجھنے والے بچے بڑے ہو کر بہتر لسانی صلاحیتوں کے مالک بنتے ہیں۔ جو بچے اس عمر میں اشارے سمجھتے ہیں یا تھوڑا بہت اشارہ کر لیتے ہیں اور چار برس کی عمر تک بہترین لسانی صلاحیتیں حاصل کر لیتے ہیں۔ ان بچوں میں کسی بھی زبان جو جلد سیکھنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے اور ان کا ذخیرۂ الفاظ بھی اپنے ہم عمروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

ایسے بچے اسکول میں بھی بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور سب سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ایسے بچے لڑائی جھگڑے سے بھی دور رہتے ہیں اور ان میں کچھ نیا کرنے کی خواہش بھی ہوتی ہے۔ اس لیے چھوٹے بچوں کی اشاروں کی زبان کو ان کی ذہانت کی علامت سمجھتے ہوئے انہیں زیادہ بہتر سیکھنے کے مواقع دینے چاہئیں تاکہ وہ اپنی ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اشاروں کے ذریعے کرتے ہیں کے ساتھ

پڑھیں:

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی

کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ کے دوسرے روز بھی پاکستان کا جادو سر چڑھ کر بولا، قومی ٹیم نے بنگلادیش کو کسی بھی مرحلے پر سنبھلنے کا موقع نہ دیا اور مسلسل تین سیٹ جیت کر 0-3 سے شاندار فتح اپنے نام کر لی۔

پاکستان نے آغاز سے ہی جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے پہلا سیٹ 16-25 سے جیتا، دوسرے سیٹ میں بھی سبز ہلالی پرچم بلند رکھا اور 17-25 سے کامیابی سمیٹی۔

تیسرے سیٹ میں بنگلادیش نے بھرپور مزاحمت کی، مگر پاکستانی کھلاڑیوں نے اعتماد اور مہارت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 22-25 سے فتح حاصل کی اور میچ بغیر کوئی سیٹ گنوائے تین صفر سے اپنے نام کر لیا۔

قومی ٹیم کی یہ مسلسل دوسری فتح کاوا چیمپئن شپ میں پاکستان کے مضبوط عزائم کا واضح اعلان ہے جبکہ شاندار کارکردگی نے ٹائٹل کی دوڑ میں پاکستان کو مزید مضبوط امیدوار بنا دیا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بارشوں سے دو ماہ میں آٹھ افراد جاں بحق ، 17 گھر مکمل تباہ
  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی