چین کی لاجسٹک مارکیٹ کا سائز مسلسل کئی سالوں سے دنیا میں پہلے نمبر پر
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
بیجنگ :چائنا فیڈریشن آف لاجسٹکس اینڈ پرچیزنگ کے مطابق، “چودھویں پانچ سالہ منصوبہ ” کی مدت کے دوران چین کے مجموعی سماجی لاجسٹکس کے حجم نے مسلسل اور مستحکم اضافے کے رجحان کو برقرار رکھا ہے ۔2025 تک، کل لاجسٹک حجم 380 ٹریلین یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے، جو کہ پانچ سالوں میں تقریباً 80 ٹریلین یوآن کا اضافہ ہے۔چین کی لاجسٹک صنعت کی کل آمدنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس میں پانچ سالوں میں تقریباً 4 ٹریلین یوآن کا اضافہ ہوا ہے ۔ 2025 میں لاجسٹکس کی کل صنعتی آمدنی کے 14 ٹریلین یوآن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے اور مارکیٹ کا سائز مسلسل 10 سالوں تک دنیا میں پہلے نمبر پر رہنے کی بھی امید ہے۔فریٹ لاجسٹکس کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، 2025 میں کل مال برداری کا حجم 59 بلین ٹن سے تجاوز کرنے کا تخمینہ ہے۔ ایکسپریس ترسیل کا حجم 200 بلین پارسلز سے متجاوز ہونے کی توقع ہے، جو مسلسل 12 سالوں سے دنیا کی اعلیٰ ترین پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹریلین یوا ن
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔