شاہ چارلس کی بہو میگھن مارکل نے اپنے سرکاری نام کا انکشاف کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, August 2025 GMT
ڈچز آف سسیکس، میگھن مارکل نے بالآخر اپنے نام سے متعلق جاری تنازع پر خاموشی توڑ دی اور اپنے سرکاری قانونی نام کی وضاحت کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میگھن مارکل کے انٹرویو کے بعد شاہی خاندان کا جذباتی بیان جاری
شہزادہ ہیری کی اہلیہ اور بادشاہ چارلس سوم کی بہو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کا قانونی نام ’میگھن، ڈچز آف سسیکس‘ ہے اور یہی وہ نام ہے جو ان کی شادی کے بعد اختیار کیا گیا تھا۔
یہ گفتگو نیٹ فلکس پر ان کے نئے شو کے دوسرے سیزن کی ریلیز کے موقعے پر بلومبرگ کی اینکر ایمیلی چانگ کے ساتھ انٹرویو میں سامنے آئی۔
یاد رہے کہ میگھن نے پہلی بار پچھلے سیزن میں اداکارہ منڈی کالنگ کو درست کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا نیا آخری نام ’سسیکس‘ ہے جس پر سوشل میڈیا پر تنقید کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ میگھن نے برطانیہ کے جس کاؤنٹی ’سسیکس‘ کا نام اپنایا ہے وہ وہاں بمشکل ایک بار ہی گئی ہیں جبکہ کچھ شاہی مبصرین کا کہنا تھا کہ بطور شاہی فرد ان کا آفیشل سرنیم ’ماؤنٹبیٹن-ونڈزر‘ ہونا چاہیے تھا جس کا میگھن نے انٹرویو میں کوئی ذکر نہیں کیا۔
مزید پڑھیے: پرنس ہیری کو شاہ چارلس کی سردمہری کا سامنا، پرانے دوست نے بھی منہ موڑ لیا
میگھن نے وضاحت کی کہ یہ معاملہ عام لوگوں کے لیے کچھ پیچیدہ ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے خاندان کا سرنیم روایتی انداز سے مختلف ہے۔
مزید پڑھیں: حقیقی زندگی میں طلسماتی کہانی جیسا سماں باندھتی مشہور شاہی شادیاں
انہوں نے کہا کہ جب میری شادی ہوئی تو میں نے اپنا نام تبدیل کیا لیکن یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو لوگوں کے لیے سمجھنا آسان نہیں کیونکہ ہمارا فیملی نیم روایتی نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے شوہر ہیری، بچے آرچی اور لیلیبٹ بھی سسیکس کو بطور خاندانی نام استعمال کرتے ہیں۔ شادی کے بعد سے مجھے اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: میگھن مارکل نے شہزادہ ہیری اور بادشاہ چارلس کی صلح پر پانی پھیر دیا
میگھن نے مسکراتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ کہنا کچھ عجیب لگتا ہے خاص طور پر ایک امریکی کے طور پر لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسی کے ساتھ میرا قانونی نام جڑا ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانوی شاہی خاندان پرنس ہیری شاہی خاندان میگھن مارکل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی شاہی خاندان پرنس ہیری شاہی خاندان میگھن مارکل آف کیمبرج میگھن نے آف سسیکس
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔