برطانوی ولی عہد کی رہائشگاہ کے نزدیک گاڑیاں چرا لے جانے والے چور بچ نکلے، سراغ نہ لگ سکا
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
برطانوی شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن، جو رواں سال کے آخر میں فارسٹ لاج میں منتقل ہونے والے ہیں، کو سیکیورٹی کے ایک بڑے خلا کا سامنا کرنا پڑا ہے جس نے شاہی خاندان کی حفاظت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہزادہ ولیم و اہلخانہ کا ایڈیلیڈ کاٹیج چھوڑ کر فاریسٹ لاج منتقل ہونے کا اعلان، نئے پڑوسی پریشان
غیر ملکی میڈیا کے مطابق رات کے وقت دو نقاب پوش افراد نے ونڈسر کاسل کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کوشش کی۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں ولیم، کیٹ اور ان کے تینوں بچے پرنس جارج، پرنسس شارلٹ اور پرنس لوئس ایڈیلیڈ کاٹیج میں قیام پذیر ہیں۔
اگرچہ حملہ آوروں نے صرف فارم کے کچھ گاڑیاں چرا کر لے گئیں اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ واقعہ شاہی خاندان کی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے گیا۔
واقعے کے بعد تھیمز ویلی پولیس نے تحقیقات شروع کیں تاہم برطانوی اخبار ’دی سن‘ کے مطابق چونکہ کوئی خاص معلومات حاصل نہیں ہو سکیں اس لیے تحقیقات روک دی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: برطانوی ولی عہد ولیم اور شہزادی کیٹ کا نیا گھر، ماہانہ کرایہ کتنا ہے؟
پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ ہم نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کیں لیکن کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہو سکی۔ بیان میں مزید کہا کہ اگر مستقبل میں کوئی نئی معلومات سامنے آئیں تو کیس دوبارہ کھولا جائے گا۔
پولیس کے پاس نہ کوئی مشتبہ شخص ہے اور نہ ہی اس واقعے کے پیچھے موجود عناصر کا کوئی سراغ۔ انہوں نے پوری کوشش کی، مگر اب تک کچھ ہاتھ نہیں آیا۔
دی سن کے ایک قریبی ذریعے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی تشویشناک ہے کہ اتنے حساس اور محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا اور اب اسے بغیر کسی نتیجے کے بند کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ پرنس ولیم، شہزادی کیٹ اور ان کے تینوں بچے اس وقت ونڈسر اسٹیٹ میں واقع ایڈیلیڈ کاٹج میں رہائش پذیر ہیں اور رواں سال کرسمس سے قبل وہ فاریسٹ لاج منتقل ہوجائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانوی شاہی خاندان برطانوی ولی عہد کی رہائشگاہ پر چور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی شاہی خاندان
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔