لبنان حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ 31 اگست کو پیش کرے گا، امریکی ایلچی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
امریکی ایلچی تھامس بیراک نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان اتوار (31 اگست) کو ایک منصوبہ پیش کرے گا جس کا مقصد حزب اللہ کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنا ہے۔ اس کے بدلے میں اسرائیل سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جنوبی لبنان سے اپنی فوج کی واپسی کے لیے ایک فریم ورک پیش کرے گا۔
لبنانی حکومت کا مؤقفبیراک کے مطابق یہ منصوبہ فوجی دباؤ یا طاقت کے استعمال پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ حزب اللہ کو قائل کرنے کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے لبنان حزب اللہ کو ملک بدر کرے ورنہ غزہ جیسے حالات کے لیے تیار رہے، اسرائیلی وزیراعظم
اس میں ایران سے مالی معاونت حاصل کرنے والے حزب اللہ کے جنگجوؤں پر پڑنے والے معاشی اثرات کو بھی شامل کیا جائے گا۔
لبنانی وزیرِاعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ ملک نے ایک ناگزیر راستہ اختیار کر لیا ہے تاکہ تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں آجائیں۔ فوج کو اگلے ہفتے تک ایک جامع منصوبہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ اگر لبنانی فوج حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں پیش قدمی کرتی ہے تو وہ جنوبی لبنان سے اپنی فوجی موجودگی کم کرنے پر تیار ہے۔
بیراک نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد اسے ایک ’تاریخی پیش رفت‘ قرار دیا اور کہا:
’اسرائیل نے اب کہہ دیا ہے کہ وہ لبنان پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا۔ وہ واپس جانے پر راضی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے کا عملی منصوبہ سامنے آئے۔‘
یہ بھی پڑھیے لبنانی کابینہ کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عزم، شیعہ وزرا کا واک آؤٹ
حزب اللہ کا ردِعملحزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے ایک خطاب میں حکومت کے اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
اُنہوں نے کہا کہ قومی دفاعی حکمتِ عملی پر بات چیت اُس وقت ہی ہوگی جب اسرائیل مکمل طور پر 27 نومبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کرے۔
قاسم کے مطابق:
’پہلے وہ معاہدے پر عمل کریں، اس کے بعد ہم دفاعی حکمت عملی پر بات کریں گے۔‘
حزب اللہ گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شدید کمزور ہوئی، جس میں اس کے کئی اعلیٰ کمانڈر مارے گئے۔
امریکی ایلچی نے کہا کہ حزب اللہ کے تقریباً 40 ہزار جنگجو ایران کی فنڈنگ پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اُنہیں غیر مسلح کرنے کے ساتھ ساتھ متبادل روزگار کی فراہمی ضروری ہے۔
بیراک نے بتایا کہ قطر اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک لبنان کی معیشت، خصوصاً جنوبی علاقے میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں تاکہ حزب اللہ کے پیروکاروں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
اس مقصد کے لیے ایک اقتصادی فورم بنانے کی بات ہو رہی ہے، جسے امریکا، لبنان اور خلیجی ممالک مل کر سپورٹ کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا حزب اللہ شیخ نعیم قاسم لبنان لبنانی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا حزب اللہ لبنانی حکومت امریکی ایلچی حزب اللہ کو حزب اللہ کے کہ حزب اللہ کے لیے
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز