ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے کا بڑا جھٹکا، 25 ممالک نے امریکا کو پارسل بھیجنا بند کردیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
جنیوا: اقوام متحدہ کے ڈاک کے ادارے یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) نے بتایا ہے کہ امریکی حکومت کے نئے ٹیرف اور ٹیکس پالیسی کے باعث 25 ممالک نے امریکا کو پارسل بھیجنے کی سہولت روک دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ 29 اگست سے امریکا میں داخل ہونے والے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائے گی۔
اس فیصلے کے بعد فرانس، جرمنی، بھارت اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کی پوسٹل سروسز نے امریکا کے لیے پارسل بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
یونیورسل پوسٹل یونین کا کہنا ہے کہ 25 رکن ممالک نے باضابطہ طور پر امریکا کے لیے اپنی سروسز معطل کرنے کی اطلاع دی ہے، کیونکہ امریکی حکام کے نئے فیصلوں اور ان کے نفاذ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔
ادارے کے مطابق یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا وضاحت نہیں کرتا کہ نئے فیصلے کو کس طریقے سے نافذ کیا جائے گا اور اس کے لیے درکار انتظامی اقدامات کب مکمل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔