پنجاب میں فلڈ ایمرجنسی زیر غور، مری میں نواز، شہباز اور مریم نواز کی غیر معمولی مشاورت
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سیلابی صورتحال پر 4 گھنٹے طویل اجلاس ہوا، جس میں پنجاب کے متاثرہ اضلاع کی رپورٹس پیش کی گئیں اور فوری ریلیف و ریسکیو اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر اور بہاولپور کے اضلاع متاثر ہیں۔ صرف ضلع قصور میں 72 گاؤں اور 45 ہزار افراد متاثر ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد اور 35 ہزار مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیے گئے۔
مزید پڑھیں: ہیڈ قادر آباد پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، حفاظتی بند توڑ دیا گیا
ریسکیو رپورٹ کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 130 کشتیاں، 115 او بی ایم، 6 اے ایم بی بائیکس، 1300 لائف جیکٹس اور 245 لائف رنگز پہنچا دیے گئے ہیں۔ میڈیکل ریلیف کیمپس میں اب تک 2600 سے زائد سیلاب متاثرین کا علاج کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اسپتالوں میں ہنگامی انتظامات یقینی بنانے اور تمام وسائل متاثرین کی مدد کے لیے بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔
مزید پڑھیں: مری میں شریف فیملی کی غیر معمولی بیٹھک، سیاسی و آئینی معاملات اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر غور
ادھر مری کے علاقے چھانگلہ گلی میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے غیر معمولی ملاقات کی۔ ن لیگ کے قائد نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سیاسی و آئینی امور سمیت سیلابی تباہ کاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں نئے چیف الیکشن کمشنر سمیت اہم تعیناتیوں پر بھی غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: راوی میں 39 سال بعد سیلابی ریلا، ستلج اور چناب بھی خطرے میں، پی ڈی ایم اے کی وارننگ
نواز شریف نے پنجاب اور کے پی میں بدترین سیلابی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کو ہدایت کی کہ وہ سرکاری مصروفیات محدود کر کے ساری توجہ متاثرین کی مدد پر مرکوز کریں، جبکہ ن لیگی وزراء اور اراکین اسمبلی کو فوری طور پر اپنے حلقوں میں جا کر امدادی سرگرمیوں میں شریک ہونے کی ہدایت بھی دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں سیلاب زدہ علاقوں میں فلڈ ایمرجنسی کے نفاذ اور انتظامی مشینری کی چھٹیاں منسوخ کرکے افسران و اہلکاروں کی گراؤنڈ پر موجودگی یقینی بنانے پر بھی غور کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں سیلابی صورتحال،وزیراعظم نے فوری اقدامات کا حکم دے دیا
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس کو اپنے دورہ جاپان اور وہاں طے پانے والے معاہدوں سے بھی آگاہ کیا۔ وہ گزشتہ شب جاپان سے سیدھی مری پہنچی تھیں، جہاں نواز شریف پہلے ہی قیام پذیر تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب میں فلڈ ایمرجنسی چھانگلہ گلی مسلم لیگ ن وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف وزیراعظم شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب میں فلڈ ایمرجنسی چھانگلہ گلی مسلم لیگ ن وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف وزیراعظم شہباز شریف مریم نواز شریف مزید پڑھیں وزیر اعلی
پڑھیں:
وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے ملاقات کی، یہ ملاقات ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور مالی سال 2026-2027 کے بجٹ کے حوالےسے کاروباری برادری سے مشاورت کے تناظر میں تھی۔
وفد میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، عاطف باجوہ، محمد علی تبہ، مصدق ذوالقرنین، زیاد بشیر، شہزاد سلیم، زیلاف منیر، عمر سعید، عمر منشا، یوسف سعید، کامران ارشد، خرم مختار ، آصف پیر، سلطان گوہر اعجاز، فواد انور، ذوالفقار حیات، جاوید اقبال، یوسف حسین، عامر ابراہیم، خواجہ مسعود اختر اور اعجاز نبی شامل تھے۔
وزیراعظم نے وفد کو خوش آمدید کہا اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری پہچان ہیں، مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کے شکر گزار ہیں، حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے، غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات شامل کئے جا رہے ہیں، کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملکی معیشت مستحکم ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو، ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے، نوجوانوں کیلئے تکنیکی و فنی تربیت کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ انکو روز گار ملنے میں آسانی ہو اور وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
وفد کو کاروبار، صنعت و تجارت کے فروغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات جلد نمٹائے کیلئے ٹیکس ٹریبونلز میں اصلاحات کی گئی ہیں؛ ان ٹریبونلز میں انتہائی شفاف طریقہء کار کے ذریعے بھرتیاں کی گئی ہیں، اسپیشل کمرشل کورٹس کے قیام کے حوالےسےکمیٹی تشکیل دی گئی ہے، کراچی کی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے کے لئے موٹر وے ایم- 10 کی اپ گریڈیشن اور پیپری فریٹ کوریڈور پر کام جاری ہے۔
بریفنگ کے مطابق موٹر وے ایم 13 (کھاریاں-راولپنڈی) کی تعمیر سے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ کم ہو جائے گا، پاکستان ریلوے کی ایم۔ایل ون اور ایم ایل- ٹو کی اپ گریڈیشن سے ریلوے کا انفرااسٹرکچر بہتر ہو گا جس سے تجارتی سامان کی ترسیل بہتر ہو گی، نیشنل اے-آئی ٹرانسفارمیشن پلان تشکیل دیا جا رہا ہے، شوگر اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار کے حوالے سے ان صنعتوں میں وڈیو اینالیٹکیس کی تنصیب سے ریوینیو کی مد میں بہتری آئی۔
وفد نے خطے میں امن کی بحالی کے لئے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا، کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کیا۔
وفد نے ملکی معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے اور کاروبار و سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول فراہم کرنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہتے ہیں۔
وفد نے ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیرمقدم کیا، کاروباری رہنماوں نے صنعتوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی لانے، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے اور ٹیکس ریفنڈ کی بروقت ادائیگیوں پر وزیراعظم سے اظہار تشکر کیا۔
شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو سراہا، کاروباری رہنماؤں نے قومی معیشت کی مضبوطی اور بجٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں، کاروباری برادری نے معاشی بحالی اور ترقی کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
وفد کے شرکاء نے صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حکومتی عزم کو سراہا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور اعوان ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔