لاپتا افراد میں شامل شخص وزیر داخلہ سندھ کا گھر نذر آتش کرنے میں ملوث نکلا
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
کراچی:
چار لاپتا افراد میں شامل شخص صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار کا گھر نذر آتش کرنے میں ملوث نکلا۔ پولیس رپورٹ پر سندھ ہائیکورٹ نے درخواست نمٹادی۔
ہائیکورٹ میں 4 لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ لاپتا افراد میں شامل شخص صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار کے گھر کو نذر آتش کرنے میں ملوث نکلا۔ پولیس نے عبد الطیف کی گرفتاری سے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ عبد الطیف لاپتا نہیں بلکہ صوبائی وزیر کے گھر جلانے کے مقدمے میں مورو میں گرفتار ہے۔
عدالت نے اورنگی ٹاؤن کے علاقے سے لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹا دی۔ پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ تھانہ ملیر کینٹ کے علاقے سے لاپتا شہری محمد عرفان گھر واپس آگیا ہے۔ عدالت نے پولیس رپورٹ پر کیس نمٹا دیا۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ نور محمد اور عبد القدیر سٹی کے علاقے سے 2012 سے لاپتا ہیں۔ گمشدہ افراد کی بازیابی سے متعلق پیش رفت نہیں ہورہی۔ عدالت نے دونوں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق معاملہ مسنگ پرسن کمیشن کو بھیج دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی بازیابی سے متعلق لاپتا افراد
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔