ایئر چیف مارشل اور ایتھوپیا کے فضائی کمانڈر کی ملاقات، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ایتھوپیا کی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل یلمہ مرداسا نے ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے پیشہ ورانہ امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، ایئر ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر معزز مہمان کو پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ملاقات کے دوران ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاکستان، ایتھوپیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں فضائی افواج کے درمیان عسکری روابط کو فروغ دینے کے لیے تربیت، آپریشنل اشتراک اور صلاحیت سازی میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
ایئر چیف نے مشترکہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ پاک فضائیہ ایتھوپیا کو اپنے جنگی تجربات اور مہارتوں سے فائدہ پہنچانے کے لیے تیار ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل یلمہ مرداسا نے پاک فضائیہ کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کی پیشہ ورانہ تیاریوں، جدید ملٹی ڈومین صلاحیتوں اور مؤثر دفاعی حکمت عملی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایتھوپیا کی فضائیہ، پاک فضائیہ کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے سیکھنے کی خواہاں ہے تاکہ اپنی فضائی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔
دورے کے دوران ایتھوپین فضائی کمانڈر نے پاک فضائیہ کے نیشنل آئی ایس آر اور انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر، ساتھ ہی سائبر کمانڈ کا بھی معائنہ کیا، جہاں انہیں جدید فضائی دفاعی نظام اور آپریشنل تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی علامت ہے بلکہ خطے میں باہمی افہام و تفہیم اور دوستی کو فروغ دینے کی جانب ایک مثبت قدم بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاک فضائیہ کے ایئر چیف
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔