سابق رکن اسمبلی رمیش کمار کے گھر ڈکیتی، ڈاکو2 کروڑ روپے مالیت کا سامان لے اڑے
اشاعت کی تاریخ: 28th, August 2025 GMT
اسلام آباد (ملک نجیب) وفاقی دارالحکومت میں سابق رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کے گھر پر بڑی ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جس میں تین مسلح ڈاکو دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کا قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔
پولیس رپورٹ کے مطابق واردات رات کے وقت پیش آئی جب تین مسلح افراد رمیش کمار کے گھر میں گھس آئے۔ ڈاکوؤں نے گھر میں توڑ پھوڑ کی، چوکیدار پر تشدد کیا اور اس سے رمیش کمار کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش بھی کی۔
رمیش کمار کے مطابق، لوٹے گئے سامان میں پانچ قیمتی گھڑیاں، برانڈڈ جوتے، چشمے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکو آپس میں پشتو زبان میں گفتگو کر رہے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مخصوص علاقے سے تعلق رکھتے ہوں گے۔
پولیس نے سابق ایم این اے رمیش کمار کے ڈرائیور کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی جاری ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رمیش کمار کے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔