— امریکا اور بھارت کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی تناؤ ایک نئی شکل اختیار کر گیا  ، جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر پیٹر ناوارو نے روس-یوکرین جنگ کو “مودی کی جنگ” قرار دیتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ روس سے تیل کی خریداری فوری طور پر بند کرے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پیٹر ناوارو کا کہنا تھا کہ بھارت کی پالیسیاں نہ صرف امریکا کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ روس کو یوکرین کے خلاف جنگ میں مالی مدد بھی فراہم کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اب مودی کی جنگ کو فنڈنگ کرنی پڑ رہی ہے، جس سے امریکی صارفین، کاروبار، مزدور، اور ٹیکس دہندگان سب متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا نے بھارت سے درآمدات پر سخت ٹیرف عائد کر دیے ہیں، جو کہ دنیا میں سب سے زیادہ تجارتی محصولات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان محصولات میں روس سے تیل اور اسلحہ خریدنے پر 25 فیصد اضافی جرمانہ بھی شامل ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ روسی مصنوعات کی خریداری سے ماسکو کو جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل ملتے ہیں۔ تاہم بھارت نے ان اقدامات کو “غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی 1.

4 ارب کی آبادی کو سستا ایندھن فراہم کرنے کے لیے روس سے تیل خریدنا جاری رکھے گا۔
روس یوکرین جنگ سے قبل بھارت کی روسی تیل میں درآمد کا حصہ صرف 2 فیصد تھا، جو اب 35 سے 40 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ روس اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تیل فراہم کنندہ بن چکا ہے۔ بھارت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ امریکا نے چین اور یورپی یونین پر ایسے سخت ٹیرف عائد نہیں کیے، حالانکہ وہ بھی روس کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔
پیٹر ناوارو نے بلومبرگ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارت کو “مغرور” قرار دیا اور کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو چاہیے کہ وہ ایک جمہوریت کی طرح رویہ اختیار کرے۔ ان کے بقول، امن کا راستہ نئی دہلی سے ہو کر گزرتا ہے اور بھارت کو عالمی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا۔
امریکی ٹیرف کے نتیجے میں بھارت کی برآمدی صنعتوں، جیسے کہ کپڑے، قیمتی پتھر اور مچھلی، پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ تجارتی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مذاکرات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ کشیدگی وقتی ہو سکتی ہے، کیونکہ بھارت بحرالکاہل کے خطے میں امریکا کا ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی اپنے تعلقات کو بہتر سمت میں لے جائیں گے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیرف کا فوری اثر محدود ہے، تاہم اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے معیشت پر طویل المدتی اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی پہلے ہی بعض شعبوں میں ٹیکسوں میں نرمی کا عندیہ دے چکے ہیں تاکہ منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
بھارتی وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مستقبل کے تجارتی مذاکرات دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں مثبت سمت میں آگے بڑھنا چاہیے۔

Post Views: 7

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔

گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔

سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔

شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔

دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔

اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔

زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔

ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔

اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار