SANAA:

روس کے میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں انصاراللہ (حوثی تنظیم) سے وابستہ وزیراعظم احمد غالب اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے تین ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے ہیں۔

سوشل میڈیا اور بعض غیر مستند ذرائع میں گردش کرنے والی ایک خبر کے مطابق، یمن میں انصاراللہ (حوثی تنظیم) سے وابستہ وزیراعظم احمد غالب اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ انہیں ان کے گھر دارالحکومت صنعا کے جنوبی علاقے حدّہ میں بمباری کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ان کے تین ساتھی بھی مارے گئے۔

اطلاعات کے مطابق احمد غالب کو پچھلے سال 10 اگست کو وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا اور حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے رکن بھی تھے، جبکہ وہ یمن کی مرکزی بینک کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔

بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر بھی ان کی شہادت کے حوالے سے خبریں آ رہی ہیں مگر انصاراللہ کے ذرائع ابھی تک اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکے۔

دوسری جانب، یمنی وزارت دفاع نے اپنے بیانات میں قیادت کو نشانہ بنانے کی بات کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے، عوام سے غزہ میں نسل کشی کے خلاف اور فلسطینی عوام کی بحالی کے لیے جذباتی حمایت جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

اسرائیل نے یمن پر حالیہ دنوں میں متعدد فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، اور ان کا دعویٰ ہے کہ ان اہداف میں حوثی عسکری اور انفراسٹرکچر شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حملے میں

پڑھیں:

عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے

بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔

اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور سے تعلق رکھنے والی سعدیہ زاہدی عالمی فضائی تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی