WE News:
2026-07-24@05:43:02 GMT

پنجاب میں سیلاب، چند اہم سوالات

اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT

صرف دو تین ہفتے پہلے تک پاکستان کے شمالی علاقوں میں تباہی مچی تو پنجاب سے مختلف امدادی تنظیموں کے لوگ اور رضاکار اپنے طور پر مدد لے کر وہاں پہنچے۔ تب کس کو اندازہ تھا کہ صرف چند دنوں میں پنجاب کے اندر بھی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔

آج پنجاب کے تین اہم دریاؤں راوی، چناب اور ستلج میں شدید طغیانی ہے، مختلف مقامات پر شدید خطرات اور بحرانی صورتحال موجود ہے۔ اگلے دو تین دن بہت اہم ہیں۔ اللہ خیر کرے۔ اس بحران میں ہمیشہ کی طرح سوشل میڈیا پر متضاد خبریں، پوسٹیں ، ولاگز وغیرہ چل رہے ہیں۔ ہم آج کے کالم میں بعض بنیادی نوعیت کے سوالات کا جائزہ لے کر حقیقت کھوجنے کی کوشش کریں گے تاکہ قارئین کے لیے اصل صورتحال واضح ہوسکے۔

پنجاب میں سیلاب اچانک کیوں اور کہاں سے آگیا؟

پنجاب میں سیلاب بنیادی طور پر چناب، راوی اور ستلج دریاوں کی وجہ سےآیا۔ ان تینوں میں یہ پانی انڈیا سے آیا ہے۔ یہ تینوں دریا بنیادی طور پر بھارت کے مشرقی ہمالیہ اور پنجاب، ہماچل پردیش کے علاقوں میں پھیلتے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں میں شدید بارشیں خاص طور پر انہی علاقوں (ہماچل پردیش، مشرقی پنجاب، ہریانہ) میں ہوئیں۔ بھارت نے اپنے ڈیمز (جیسے بھاکڑا، پونگ، رانجیت ساگر وغیرہ) سے پانی چھوڑا جس سے پاکستان کی طرف بڑے سیلابی ریلے آئے۔

ستلج اور راوی میں اس بار پانی کیسے آگیا؟

پنجاب سے پانچ دریا بہتے ہیں۔ سندھ، چناب، جہلم، راوی اور ستلج ، بیاس کو بھی شامل کر سکتے ہیں گو اس کا زیادہ حصہ انڈیا ہی میں ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان نے راوی، ستلج اور بیاس مکمل طور پر انڈیا کے حوالے کر دیے تھے، یعنی ان کے پانی پر پاکستان کا کوئی حق نہیں رہے گاجبکہ سندھ، جہلم اور چناب پر مکمل کنٹرول پاکستان کو مل گیا۔

سندھ طاس معاہدے کے بعد راوی اور ستلج قریباً خشک ہوگئے ،کیونکہ انڈیا نے ان کے پانیوں کو اپنے مکمل کنٹرول میں کر لیا اور کئی ڈیم بنا کر پانی ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ ستلج پر تو بھارت نے اتنا بڑا ڈیم بنا رکھا ہے کہ وہ تین سال کے ستلج فلڈ کو بھی سٹور کر سکے۔ اسی وجہ سے عام حالات میں اور طویل عرصے سے راوی اور ستلج میں کبھی اتنا پانی آیا ہی نہیں، بھارت کو ضرورت بھی نہیں تھی کہ وہ اپنا پانی پاکستان کی طرف بھیجتا۔ اس بار البتہ صورتحال یکسر بدل گئی اور ستلج، بیاس، راوی کے کیچمنٹ ایریا میں اتنی بارشیں ہوئیں اور اس قدر پانی جمع ہوگیا کہ بھارتی ڈیمز خطرناک حد تک فل ہوگئے۔ انہیں پانی ریلیز کرنا پڑا اور یوں اچانک لاکھوں کیوسک پانی ستلج، راوی میں آگیا۔ جس نے بحران پیدا کر دیا۔

کیا اسے انڈیا کی آبی جارحیت کہیں گے ؟

کہنے کو تو جو مرضی کہہ دیں، اصولی طور پر اسے آفت ہی سمجھنا چاہیے۔ انڈیا میں باقاعدہ قیامت ٹوٹی ہے اور وہاں پاکستان سے بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے۔ بعض شہروں، خاص کر ہماچل پردیش اور جموں وغیرہ میں تو دو تین دن مسلسل شدید بارش ہوتی رہی۔ اودھم پور میں چھ سو ملی میٹر بارش ہوئی۔

لاہور، کراچی میں ڈیڑھ سو ملی میٹر بارش پر شہر دریا بن جاتے ہیں اور جب کسی شہر میں اس سے چار گنا زیادہ بارش پورا دن برستی رہے تو کیا حال ہوگا؟ اودھم پور میں تو بیراج بھی تباہ ہوا، کئی جانیں گئیں، گاڑیاں نیچے جا گریں۔ مقبوضہ جموں کے علاقہ میں بھی بارشوں سے بہت نقصان ہوئے۔ بھارتی ڈیم خطرناک حد تک بھر گئے۔

بھارت نے پاکستان کو بروقت پانی چھوڑنے کا بتا بھی دیا۔ سٹینڈرڈ پروسیجر کے مطابق دو دن پہلے بتایا گیا اور اسی وجہ سے پاکستان میں جانی نقصان کم ہوا، ہماری انتظامیہ نےبہت سے دیہات خالی کرا لیے تھے، ورنہ پہلے تو لوگ سوئے ہوتے اور اچانک سیلاب کا ریلا ان کے سر پر جا پہنچتا، لوگوں کو بچ نکلنے کا موقع بھی نہ ملتا۔

انڈیا نے پہلے بتایا، البتہ سندھ طاس کمشنر کے بجائے سفارت خانے کے ذریعے یہ اطلاع دی گئی جو غلط طریقہ کار ہے اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔ اس پر پاکستان نے احتجاج کیا جو بنتا بھی ہے۔

دریائے سندھ میں صورتحال پرسکون کیوں؟

یہ سوال بہت لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ہمیشہ سندھ میں سیلاب آتے ہیں، اس بار مختلف کیسے رہا؟ اس لیے کہ سندھ کا کیچمنٹ ایریا مختلف ہے۔ اس کا روٹ بھی خاصا مختلف ہے۔

دریائے سندھ کا کیچمنٹ ایریا زیادہ تر گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور مشرقی افغانستان میں ہے۔ اس حصے میں بارشیں اس بار اتنی شدید نہیں ہوئیں جتنی مشرقی پنجاب، ہماچل پردیش (انڈیا) میں ہوئیں۔ اس لیے دریائے سندھ میں اس وقت غیرمعمولی طغیانی نہیں۔

ایک اور فیکٹر بھی ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم تربیلا دریائے سندھ ہی پر قائم ہے جو سات ملین ایکڑ فٹ پانی جمع کر سکتا ہے۔ دریائے سندھ کے پانی کا بڑا حصہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے گلیشیئرز اور برف باری سے آتا ہے۔ یہ پانی سیدھا تربیلا کے ریزروائر میں جمع ہوتا ہے۔ یعنی جو بھی پانی دریائے سندھ میں اپ اسٹریم (گلگت، چلاس، دیامر وغیرہ) سے آتا ہے، وہ سب پہلے تربیلا میں پہنچتا ہے۔ یوں سندھ میں آنے والی طغیانی یا سیلاب کا بڑا حصہ تربیلا روک لیتا ہے۔

جہلم میں چناب جیسی طغیانی کیوں نہیں؟

جہلم اور چناب دونوں کا پانی انڈیا سے آتا ہے، مگر دونوں الگ الگ دریا ہیں اور ان کا کیچمنٹ ایریا بھی مختلف ہے۔ دریائے جہلم کا بڑا حصہ کشمیر (وادی کشمیر، پیر پنجال رینج، اور کچھ حصہ ہماچل) میں ہے۔اس خطے میں بارش ضرور ہوئیں، مگر اتنی تیز اور مسلسل نہیں جتنی چناب، ستلج بیسن میں۔ اسی وجہ سے جہلم میں آنے والا پانی نسبتاً کم رہا۔

جہلم کا زیادہ انحصار برف باری اور گلیشیرز کے پگھلنے پر ہے، جبکہ چناب، ستلج زیادہ تر بارشوں پر ری ایکٹ کرتے ہیں۔ اگست کے اس فلڈ ایونٹ میں بارش اصل وجہ تھی، اس لیے چناب،ستلج زیادہ متاثر ہوئے۔

ایک فیکٹر دریائے جہلم پر بنائے جانے والے ڈیمز بھی ہیں۔ جہلم پر بھارت نے ڈیم بنا رکھے ہیں جن میں سے بعض متنازع بھی ہیں، پاکستان کا دوسرا بڑا ڈیم منگلا بھی دریائے جہلم پر ہے۔ منگلا میں کئی ملین ایکڑ فٹ جمع ہوسکتا ہے۔ یہ ڈیمز بھی کم از کم کچھ دنوں کے لئے پانی روک کر سیلاب کی شدت کم کر دیتے ہیں۔

کیچمنٹ ایریا سے کیا مراد ہے؟

ممکن ہے کسی پڑھنے والے کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہو کہ کیچمنٹ ایریا سے کیا مراد ہے؟ کسی بھی دریا یا ندی کا کیچمنٹ ایریا وہ پورا جغرافیائی علاقہ ہے جہاں ہونے والی بارش یا برف باری کا پانی جمع ہو کر اس دریا میں آتا ہے۔ اسے ڈرینج بیسن بھی کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر پہاڑوں پر بارش ہو اور وہ پانی چھوٹی ندیوں سے ہو کر دریائے چناب میں جا گرے تو وہ سارا علاقہ چناب کا کیچمنٹ ایریا (catchment area) ہے۔

کیا کالا باغ ڈیم حالیہ سیلاب روک سکتا تھا؟

کالا باغ ڈیم دریائے سندھ کے پانی پر ایک تجویز کردہ ڈیم ہے جو کئی ملین ایکڑ فٹ پانی جمع کرنے کے علاوہ تین ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔ بوجوہ یہ منصوبہ متنازع ہوچکاہے، خاص کر سندھی عوام میں اس کے خلاف شدید ردعمل موجود ہے۔

عام طور سے ہمارے ہاں دریائے سندھ میں شدید طغیانی اور سیلابی ریلے آتے ہیں جو پنجاب کے کئی شہروں کے علاوہ اندرون سندھ میں بھی تباہی پھیلاتے ہیں۔ دو ہزار دس کا سیلاب ذہن میں رکھیں۔ تب یہ سوال اٹھایا جاتا تھا کہ اگر کالاباغ ڈیم بنا ہوتا تو وہ کئی ملین ایکڑ فٹ پانی روک کر سیلاب کی شدت بہت کم کر دیتا اور یوں اتنی تباہی نہ ہوتی۔

یہ سوال اور بحث سابق سیلابوں میں تو ٹھیک تھی، مگر حالیہ بحران میں دریائے سندھ کا کوئی کردار ہی نہیں۔ اس لیے کالاباغ ڈیم بنا ہوتا یا نہ ہوتا، اس سے کچھ فرق نہیں پڑنا تھا۔ پنجاب میں جن دریاوں (چناب، راوی، ستلج)نے تباہی پھیلائی ہے یا مزید کا خطرہ ہے، کالاباغ ڈیم ان کے روٹ ہی میں نہیں۔ اس لیے کالاباغ ڈیم ہوتا تب بھی ہم اس تباہی سے نہ بچ سکتے۔

ایسے سیلاب روکنے کے لیے کیا بڑے ڈیم بن سکتے ہیں؟

بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ ڈیم کوئی کنواں نہیں کہ جہاں جی چاہا ہم نے کھود لیا۔ ڈیم کے لیے مخصوص جغرافیائی پوزیشن، خاص قسم کی زمین، مٹی اور جھیل کے لیے خاص انداز کی جگہ چاہیے ہوتی ہے۔ پانی سٹور کرنے کے لیے پہاڑ یا سخت چٹانیں ہوں اور پیچھے اتنی جگہ کہ جھیل بن سکے۔ یہ تینوں دریا جس روٹ سے گزرتے ہیں ، وہ سب میدانی علاقے ہیں اور وہاں پر بڑے ڈیم نہیں بن سکتے۔ چناب کے راستے میں ہم صرف چنیوٹ پر ایک ڈیم بنا سکتے ہیں جو مڈ لیول ہوگا یعنی اس کی سٹوریج کی حد کچھ زیادہ نہیں ہوگی، جبکہ باقی کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں بڑا ڈیم بن سکے۔
ویسے ہم پنجاب میں دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم اور دریائے سواں پر سواں ڈیم بنا سکتے ہیں، مگر ان دونوں بڑے منصوبوں پر بعض اعتراضات ہیں اور کالاباغ ڈیم تو بہت ہی متنازع ہوچکا ہے۔

ان سیلابوں کے تدارک کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق پنجاب میں زیادہ مناسب حل چھوٹے اور درمیانے ڈیم، چیک ڈیم، فلڈ اسٹوریج بیسن اور بیراج اپ گریڈیشن ہے۔ پوٹھوہار میں چھوٹے ڈیم پچھلے چند برس میں بنے ہیں، وہاں دو اڑھائی سو مزید چھوٹے ڈیمز بن سکتے ہیں۔

بیراج انگریزوں نے پنجاب کے حساب سے بنائے تھے۔ ان میں اپ گریڈیشن بھی ہوتی رہی ہے، جیسے خانکی بیراج اور بعض دیگر میں پچھلے چند برسوں کے اندر اپ گریڈیشن نہ ہوئی ہوتی تو حالیہ سیلاب میں یہ اڑ جانے تھے۔ قادرآباد بیراج میں دو دن قبل تاریخی ریلا گزرا ہے جو ہمارے ماہرین کی محنت شاقہ اور مسلسل دیکھ بھال سے ممکن ہوپایا۔

پنجاب میں نئے بیراج بنانے کا بھی سوچا جا سکتا ہے اور موجودہ بیراجوں کی مزید اپ گریڈیشن پر بھی فوکس کرنا چاہیے ۔ بعض اوقات پچاس ہزار یا ایک لاکھ کیوسک کی گنجائش بڑھا لینے سے بیراج آنے والے کسی سیلابی ریلے سے محفوظ رہ جاتا ہے۔ دریائے چناب اور جہلم کے درمیانی علاقوں میں فلڈ اسٹوریج بیسن بن سکتے ہیں۔ ڈی جی خان میں رودکوہی سے بچنے کے لیے ان پر چیک ڈیم اور فلڈ پروٹیکشن ڈھانچے بنائے جا سکتے ہیں تاکہ رودکوہی کے ریلے سیلابی ریلے میدانی علاقوں کو تباہ نہ کریں۔

چیک ڈیم ایک چھوٹا سا بند (چھوٹی دیوار) ہوتا ہے جو کسی ندی، نالے یا برساتی پانی کے راستے پر بنایا جاتا ہے۔ مقصد یہ نہیں ہوتا کہ بہت زیادہ پانی جمع کیا جائے (جیسے تربیلا یا منگلا میں)، بلکہ یہ کہ: پانی کے بہاؤ کی رفتار کم ہو، پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی (aquifer) کو ریچارج کرے، قریبی کھیتوں کو تھوڑا بہت آبپاشی کا پانی مل سکے، مٹی کا کٹاؤ (erosion) کم ہو۔ اس کی بلندی چند میٹر بھی ہوسکتی ہے اور یہ چند لاکھ میں بھی بنایا جا سکتا ہے۔

ہمارے دوست اور آبی ماہر انجینئر ظفر اقبال وٹو مسلسل سوشل میڈیا پر ان ایشوز کے حوالے سے خبردار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہروں میں واٹر ریچارج کرنے کی شدید ضرورت ہے جبکہ سیلاب سے بچاؤ کے لیے فلڈ چینل بنانا ہوں گے، ستلج کا فلڈ واٹر چولستان اور سندھ کا فلڈ واٹر صحرائے تھل میں جا سکتا ہے تاکہ تباہی نہ ہو۔

اگلے چند دنوں میں خطرہ مزید بڑھے گا؟

اللہ خیر رکھےگا، مگر خدشات تو کئی ہیں۔ یہ تحریر لکھتے وقت تو ہیڈ تریموں کو بھی چیلنج درپیش ہے، آگے جنوبی پنجاب پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ دراصل ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ راوی، چناب، ستلج اکھٹے ہو کر جب ہیڈ پنجند پہنچیں گے تو کہیں ریلا پنجند کی کیپیسٹی سے بڑھ نہ جائے۔

خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سندھ کے کیچمنٹ ایریا میں شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوجائے اور سندھ کا پانی بڑھ جائے۔ تربیلا ڈیم فل ہوچکا ہے تو اب وہاں سے پانی ریلیز ہی کرنا پڑے گا۔ یوں بحران کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ چناب، ستلج یا راوی میں پہلے سے ہی فلڈ چل رہا ہو اور ساتھ ہی انڈس میں بھی فلڈ آ جائے تو یہ لہریں نیچے جا کے پنجند بیراج اور پھر کوٹری کے قریب آ کر کمبائنڈ فلڈ بنا سکتی ہیں۔

سندھ کے لیے براہِ راست خطرے کے پوائنٹس

گڈو بیراج : سب سے پہلے دباؤ یہاں پڑتا ہے۔
سکھر بیراج : اگر بہت زیادہ ریلا آئے تو یہاں کے پرانے اسٹرکچر پر بھی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
کوٹری بیراج : یہاں پہنچ کر فلڈ کا رخ براہِ راست حیدرآباد، ٹھٹھہ اور بدین کی طرف ہو جاتا ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ سندھ کی اصل کمزوری یہ ہے کہ اس کے بند اور ڈیلٹا پہلے ہی کمزور ہیں، اس لیے بڑی فلڈ ویو زیادہ نقصان کر سکتی ہے۔ اس لیے ڈاون سٹریم پر کڑی نظر رکھنے اور ماہرین کو ہمہ وقت مستعد رہنے کی ضرورت ہوگی۔ اللہ خیر فرمائے، آمین۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

پنجاب میں سیلاب راوی۔ ستلج سندھ عامر خاکوانی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب میں سیلاب راوی ستلج پنجاب میں سیلاب دریائے سندھ میں راوی اور ستلج سیلابی ریلے ہماچل پردیش کالاباغ ڈیم اپ گریڈیشن سکتے ہیں پنجاب کے بھارت نے پانی جمع میں بھی بن سکتے یہ سوال کا پانی بڑا ڈیم جاتا ہے ہیں اور ڈیم بنا سندھ کے سکتا ہے سندھ کا کے پانی جمع ہو آتا ہے کے لیے ڈیم بن اس لیے ہے اور میں ہے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن