سیلاب سے سندھ کے 15 اضلاع متاثر ہوں گے، ڈی جی پی ڈی ایم اے
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں بہت سے بند مضبوط کر دیے گئے ہیں اور اس وقت 15 اضلاع اس سیلاب سے متاثر ہو سکتے ہیں جہاں 5 سے 7 لاکھ افراد موجود ہیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ دریاؤں کی گنجائش سے کم پانی اس وقت آرہا ہے لیکن نقصان وہاں ہوتا ہے جہاں بند ٹوٹ جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم اے سیلاب کو کیسے مانیٹر کرتی ہے؟
سید سلمان شاہ نے کہا کہ پاکستان کے بالائی علاقوں کے بعد پانی کا رخ میدانی علاقوں کی طرف ہے اور اس وقت پنجاب شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہے اور یہ پانی تیزی سے سندھ کی جانب رواں دواں ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ اس مرتبہ سیلاب کی صورتحال مختلف ہے کیوں کہ یہ دریا کے ساتھ آرہا ہے جبکہ گزشتہ سیلاب بارش کے تھے جن سے تباہی زیادہ مچی تھی اور ان تباہ کاریوں سے ہم اب تک نپٹ رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: سیلاب میں تباہ ہونے والی سڑکوں اور پلوں کی اصل وجہ کرپشن ہے، خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ ہم نے نظر رکھی ہوئی ہے اور سب ہائی الرٹ ہیں اور بندوں کے پاس آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے جبکہ تمام ادارے آن بورڈ ہیں تاکہ پانی کو بآسانی سمندر میں اتارا جاسکے۔
مزید پڑھیں: سیلاب سے پنجاب میں تباہی، کئی بند ٹوٹنے سے بستیاں ڈوب گئیں، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سندھ اور پنجاب میدانی علاقے ہیں جہاں پانی کو ذخیرہ کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا جبکہ یہ کام پہاڑی علاقوں میں آسانی سے ہو جاتا ہے۔ تفصیل جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاہ ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلیمان شاہ سندھ سندھ سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلمان شاہ ڈی جی پی ڈی ایم اے سید سلیمان شاہ سندھ سیلاب ڈی جی پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔