گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گزشتہ دنوں آنے والے اچانک اور تباہ کن سیلاب نے گاؤں تالی داس کو مکمل طور پر ملیامیٹ کر دیا تھا جس کے بعد متاثرین کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔

متاثرین کو سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کی جانب سے محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کی رہائش کے لیے عارضی کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں سرکاری محکمے اور فلاحی تنظیمیں ان کی مدد کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: غذر گلگت بلتستان: سیلاب کے دوران چرواہے کی بروقت اطلاع سے سینکڑوں زندگیاں کیسے بچ گئیں؟

متاثرہ علاقوں تک سڑکوں کی بندش اور زمینی رسائی کے مسائل کے پیشِ نظر ہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ آغاخان فاؤنڈیشن کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اب تک 200 فوڈ پیکجز مختلف دیہاتوں میں پہنچائے گئے ہیں جبکہ 50 کے قریب مریضوں، بزرگوں اور طالب علموں کو متعدد پروازوں کے ذریعے گلگت منتقل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ علاقے میں بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے متاثرین کے کیمپ میں ایک ماہر امراضِ نسواں (گائناکالوجسٹ) سمیت طبی عملہ بھی تعینات کردیا ہے تاکہ متاثرہ آبادی کو فوری صحت کی سہولت فراہم کی جاسکے۔

AKF Helicopters transporting relief items to flood Affectees in Rawshan Ghizer in Gilgit-Baltistan.

The Helis have lifted some 50 people from the flood-hit areas to Gilgit.#GilgitBaltistan #AKDN #AKF #Flood pic.twitter.com/sXPsjvF7YS

— Karimullah (@karimullahcl) August 29, 2025

وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے گزشتہ دنوں تالی داس کے قریب کیمپ کا دورہ کرکے متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔ انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو متاثرہ علاقے میں موبائل نیٹ ورک بحال کرنے کی ہدایت بھی دی۔

ضلع غذر کے ہی سیلاب سے متاثرہ علاقہ چٹورکھنڈ کے دورے کے موقع پرانہوں نے سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور ان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر جاں بحق افراد کے لواحقین کو وزیراعظم پاکستان کی جانب سے 20، 20 لاکھ روپے کے امدادی چیک بھی دیے۔

غذر گلگت بلتستان: رضاکار متاثرہ آبادی میں امدادی سامان کی تقسیم کررہے ہیں

یاد رہے کہ تالی داس میں گزشتہ دنوں سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 30 مکانات مکمل تباہ ہوئے جبکہ 100 سے زائد گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ علاقے کی تمام دکانیں اور دیگر املاک بھی ملبے تلے دب گئیں۔

غذر دریا میں آنے والے ریلے نے بند باندھ دیا جس سے تقریباً 7 کلومیٹر طویل جھیل وجود میں آگئی۔ اس جھیل نے مزید 330 گھرانوں کو متاثر کیا جبکہ مکانات، زرعی زمینیں اور غذر-شندور روڈ کے کئی حصے زیر آب آگئے، جس کے باعث اپر گوپس، پھندڑ اور یاسین کا زمینی رابطہ کٹ گیا اور ہزاروں لوگ محصور ہو کر رہ گئے۔

یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں: 9 افراد جاں بحق، درجنوں لاپتا

اس سے قبل جولائی اور اگست کے مہینے میں گلگت بلتستان میں دیامر، چٹورکھنڈ، بلتستان اور ہنزہ کے متعدد مقامات پر بھی سیلاب آئے اور مقامی آبادی اور سیاحوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

اس عرصے میں قدرتی آفات سے جُڑے مختلف حادثات میں 20 سے زائد افراد جان سے گئے جن میں دنیور گلگت میں آبپاشی کی نہر کی مرمت کرنے کے دوران حادثے میں جاں بحق ہونے والے 8 رضاکار، چٹورکھنڈ میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے ایک ہی گھر کے 5 افراد اور دیامر کے تھک نالہ میں سیلاب کی نذر ہونے والے متعدد سیاح بھی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

FLOODS GHIZER RAWSHAN FLOOD امدادی سرگرمیاں راؤشن سیلاب سیلاب متاثرین غذر گلگت بلتستان ہیلی کاپٹر

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امدادی سرگرمیاں راؤشن سیلاب سیلاب متاثرین گلگت بلتستان ہیلی کاپٹر گلگت بلتستان کے ذریعے گیا ہے

پڑھیں:

ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف

ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔

چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان