حکومت کا سیلاب متاثرین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینےکا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
حکومت نے سیلاب متاثرین کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کا اعلان کر دیا ۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے لیسکو ہیڈکوارٹر لاہور میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی صارفین کو خصوصی ریلیف فراہم کیا جائے گا، متاثرین کے بجلی کے بلوں کی تاریخ میں توسیع بھی دی جائےگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سیلاب متاثرین کے بجلی بلز کے لیے کسی مدد کا اعلان کر ے گی تو ڈسکوز بل معاف کر سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیلابی پانی کے باعث بجلی بحالی کا عمل متاثر ہے، پانی کی سطح کم ہوتے ہی بجلی کی بحالی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان میں 3 کروڑ 30 لاکھ میں سے ایک کروڑ 80 لاکھ صارفین 70 فیصد ڈسکائونٹ پر بجلی لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ لیسکو ملازمین نے ایک دن کی تنخواہ وزیر اعظم کے سیلاب فنڈ میں جمع کروا دی ہے، ملازمین اور صارفین کی سیفٹی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لوگ سولر پینل لگا کر خود کو 200 یونٹ سے نیچے لے کرگئے جس سے بجلی کی قیمت سستی ہوئی ہے اور بلوں میں فرق آیا ہے۔ حکومت کے موثر اقدامات کی بدولت بجلی کے نرخوں میں واضح کمی ہوئی، جو لوگ یہ تبدیلی محسوس نہیں کر رہے اُن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ والے نئے آئی پی پیز بننے جا رہے ہیں، نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے4 روپے فی یونٹ بوجھ عوام پر پڑے گا جسے حکومت کسی صورت نظرانداز نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ واپڈا کی نجکاری کاعمل شروع ہو چکا ہے، محکمے میں رائٹ سائزنگ کر رہے ہیں،
وزیر توانائی نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت پر سیاسی بھرتیوں کا الزام نہیں لگایا جا رہا کیونکہ اختیارات کی جنگ لڑنے کے بجائے ہم نے کمپنی کو با اختیار بنایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔