امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، ٹرمپ نے بحری جہاز تعینات کردیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
امریکا اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی ہے جب امریکا نے جنوبی کیریبین اور قریبی پانیوں میں اپنی بحری افواج کی غیر معمولی تعیناتی کر دی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لاطینی امریکا کے منشیات فروش کارٹلز کے خطرات سے نمٹنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منشیات فروش گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو اپنی حکومت کی مرکزی ترجیح قرار دیا ہے جسے وہ غیر قانونی ہجرت روکنے اور جنوبی سرحد محفوظ بنانے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کا یورپی یونین اور میکسیکو پر 30 فیصد ٹیرف کا اعلان، تجارتی کشیدگی میں اضافہ
روئٹرز کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت 7 امریکی جنگی جہاز اور ایک ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوز خطے میں موجود ہیں یا آئندہ ہفتے وہاں پہنچنے والی ہیں۔ اس تعیناتی میں یو ایس ایس سان انتونیو، یو ایس ایس ایوو جیما اور یو ایس ایس فورٹ لاڈرڈیل شامل ہیں جن پر مجموعی طور پر 4,500 اہلکار، جن میں 2,200 میرینز بھی ہیں، موجود ہیں۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔ وینزویلا نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو باقاعدہ شکایت درج کراتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ وینزویلا کے اقوامِ متحدہ میں سفیر سموئیل مونکاڈا نے کہا کہ یہ ایک بڑی پروپیگنڈا مہم ہے تاکہ فوجی مداخلت کو جواز فراہم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے وینزویلا کے صدرکی گرفتاری کے لیےانعامی رقم 50 ملین ڈالرکردی
وائٹ ہاؤس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صدر ٹرمپ امریکی طاقت کے ہر ذریعے کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ منشیات کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ امریکی حکام کے مطابق خطے کے کئی ممالک نے انسدادِ منشیات کارروائیوں پر واشنگٹن کے اقدامات کی حمایت کی ہے۔
امریکی فوجی ذرائع کے مطابق خطے میں P-8 جاسوس طیارے بھی نگرانی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مادورو حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ کولمبیا کی سرحدی ریاستوں میں 15 ہزار فوجی تعینات کرے گی تاکہ منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی جا سکیں۔
مادورو نے مزید کہا ہے کہ ہر جمعہ اور ہفتہ کو شہری دفاعی گروپوں کو تربیت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری سفارت کاری توپوں اور دھمکیوں کی نہیں، کیونکہ دنیا اب 100 سال پرانی دنیا نہیں رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی بحریہ منشیات وینزویلا یو ایس نیوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا امریکی بحریہ منشیات وینزویلا یو ایس نیوی وینزویلا کے یو ایس
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔