پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت نے عالمی سطح پر اپنی مضبوط موجودگی کا اظہار کیا جب ’ورلڈ سی آئی او سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025–پاکستان ایڈیشن‘ کامیابی کے ساتھ کراچی میں منعقد ہوا۔ ایونٹ آئی ٹی سی این ایشیا کے تحت محمد عمیر نظام کی قیادت میں ہوا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد ٹیکنالوجی لیڈرز شریک ہوئے۔

یہ سمٹ ’سی آئی او روڈ شو‘ کا 49واں پڑاؤ تھا، جس کی میزبانی پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور مصر میں فائنل سے قبل کی۔ عالمی شخصیات کی شرکت نے پاکستان کو ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل حب کے طور پر اجاگر کیا۔

مزید پڑھیں: ڈیجیٹل معیشت کی جانب اہم قدم، کاروباری لائسنس کے لیے کیو آر کوڈ لازم

اس سال کا تھیم ’ڈان آف اے نیو ڈیکیڈ‘ تھا، جس کے تحت عالمی سطح پر CIOs, CTOs, CISOs اور ٹیکنالوجی انوویٹرز نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور نئی حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

ایونٹ کی کامیابی کا سہرا گلوبل سی آئی او فورم کے پاکستان میں کنٹری ایمبیسیڈر سید عبدالقادر کو دیا گیا، جبکہ دینو علی اور شارلین انصاری نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔

مزید پڑھیں: کیش لیس پاکستان کی جانب اہم پیشرفت، وزیراعظم کا ڈیجیٹل معیشت پر عملدرآمد تیز کرنے پر زور

اہم موقع CIO 200 ایوارڈز کی تقریب تھی، جس میں پاکستان کے نمایاں ڈیجیٹل رہنماؤں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں عدنان رفیق احمد، محمد عرفان علی، عبدالباسط قریشی، فریال خان، نجم خان، ہمایوں فاروق اور دیگر شامل تھے۔

شرکا کے مطابق یہ صرف ایک کانفرنس نہیں بلکہ اعلان تھا کہ پاکستان اعتماد کے ساتھ عالمی ڈیجیٹل منظرنامے پر قدم رکھ چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان ڈیجیٹل معیشت ورلڈ سی آئی او سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان ڈیجیٹل معیشت ورلڈ سی آئی او سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025 ڈیجیٹل معیشت سی آئی او

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس