ورلڈ سی آئی او سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025: پاکستان عالمی ڈیجیٹل قیادت میں نمایاں
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت نے عالمی سطح پر اپنی مضبوط موجودگی کا اظہار کیا جب ’ورلڈ سی آئی او سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025–پاکستان ایڈیشن‘ کامیابی کے ساتھ کراچی میں منعقد ہوا۔ ایونٹ آئی ٹی سی این ایشیا کے تحت محمد عمیر نظام کی قیادت میں ہوا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد ٹیکنالوجی لیڈرز شریک ہوئے۔
یہ سمٹ ’سی آئی او روڈ شو‘ کا 49واں پڑاؤ تھا، جس کی میزبانی پاکستان نے متحدہ عرب امارات اور مصر میں فائنل سے قبل کی۔ عالمی شخصیات کی شرکت نے پاکستان کو ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل حب کے طور پر اجاگر کیا۔
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل معیشت کی جانب اہم قدم، کاروباری لائسنس کے لیے کیو آر کوڈ لازم
اس سال کا تھیم ’ڈان آف اے نیو ڈیکیڈ‘ تھا، جس کے تحت عالمی سطح پر CIOs, CTOs, CISOs اور ٹیکنالوجی انوویٹرز نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور نئی حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ایونٹ کی کامیابی کا سہرا گلوبل سی آئی او فورم کے پاکستان میں کنٹری ایمبیسیڈر سید عبدالقادر کو دیا گیا، جبکہ دینو علی اور شارلین انصاری نے میزبانی کے فرائض انجام دیے۔
مزید پڑھیں: کیش لیس پاکستان کی جانب اہم پیشرفت، وزیراعظم کا ڈیجیٹل معیشت پر عملدرآمد تیز کرنے پر زور
اہم موقع CIO 200 ایوارڈز کی تقریب تھی، جس میں پاکستان کے نمایاں ڈیجیٹل رہنماؤں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں عدنان رفیق احمد، محمد عرفان علی، عبدالباسط قریشی، فریال خان، نجم خان، ہمایوں فاروق اور دیگر شامل تھے۔
شرکا کے مطابق یہ صرف ایک کانفرنس نہیں بلکہ اعلان تھا کہ پاکستان اعتماد کے ساتھ عالمی ڈیجیٹل منظرنامے پر قدم رکھ چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ڈیجیٹل معیشت ورلڈ سی آئی او سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ڈیجیٹل معیشت ورلڈ سی آئی او سمٹ اینڈ ایوارڈز 2025 ڈیجیٹل معیشت سی آئی او
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔