Express News:
2026-06-02@22:46:21 GMT

یورپی ممالک کی ایران کو پابندیوں میں نرمی کی مشروط پیشکش

اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT

یورپ کے تین بڑے ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ کچھ شرائط پوری کردے تو اس پر عائد اسنیپ بیک پابندیوں کو چھ ماہ کے لیے مؤخر کیا جاسکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ان ممالک کے نمائندوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو تین اقدامات اٹھانے ہوں گے: پہلا، جوہری پروگرام پر عالمی جوہری ایجنسی کے معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دینا؛ دوسرا، یورینیم افزودگی سے متعلق خدشات دور کرنا؛ اور تیسرا، امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی۔

یاد رہے کہ انہی یورپی ممالک نے جمعرات کو اسنیپ بیک میکانزم کے تحت ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا عمل شروع کیا تھا، جو تیس دنوں میں مکمل ہونا ہے۔

ایران کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر، امیر سعید ایرانی نے مؤقف اپنایا کہ یہ شرائط غیر حقیقی اور ناقابلِ قبول ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے مطالبات دراصل مذاکرات کے اختتام پر طے پانے چاہئیں، نہ کہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک بھی بخوبی جانتے ہیں کہ یہ شرائط پوری نہیں کی جا سکتیں۔

اس سے ایک روز قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا تھا کہ اگر مغربی ممالک سنجیدگی اور خیرسگالی کا مظاہرہ کریں تو ایران اپنے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار