بنوں؛ دہشتگردوں کا بھاری ہتھیاروں سے تھانے پر حملہ فوری جوابی کارروائی سے ناکام
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
دہشتگردوں کا تھانے پر بڑا حملہ پولیس کی بہادری سے ناکام بنا دیا گیا۔
پولیس کے مطابق فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نے تھانہ میریان پر حملہ کیا تاہم پولیس کی بروقت اور بھرپور جوابی کارروائی کے باعث دہشت گردوں کو پسپا ہونا پڑا۔
ڈی پی او بنوں سلیم کلاچی کے مطابق حملہ 3 اطراف سے کیا گیا، جس میں 70 سے زائد دہشتگرد شامل تھے اور انہوں نے کارروائی میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
انہوں نے بتایا کہ چوکس پولیس اہل کاروں نے دہشت گردوں کو فوری اور مؤثر جواب دیا، جس کے باعث فائرنگ کا سلسلہ اگرچہ 20 سے 25 منٹ تک جاری رہا مگر پولیس کی نفری مکمل طور پر محفوظ رہی۔
ڈی پی او کے مطابق دہشتگرد کمانڈروں قاری نیاز، سفیر اور رسول کی قیادت میں حملہ آور ہوئے تھے لیکن پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور تربیت نے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ تھانے پر حملے کو ناکام بنانا پولیس کے عزم، تیاری اور پیشہ ورانہ مہارت کا واضح ثبوت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پولیس کی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔