Express News:
2026-06-03@01:01:23 GMT

اگست میں ایف بی آر کا 65 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال

اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT

اسلام آباد:

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اگست میں 65 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا، جس کی بڑی وجوہات بجلی کے قومی گرڈ سے کم استعمال، صنعتی پیداوار میں سست روی اور نفاذی اقدامات کی واپسی قرار دی گئی ہیں۔

ایف بی آر نے اگست میں 1.7 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1.635 کھرب روپے اکٹھے کیے، جو عبوری اعداد و شمار کے مطابق ہے۔ اعلیٰ ایف بی آر افسر کے مطابق، حتمی اعداد و شمار آنے پر شارٹ فال 45 سے 50 ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے،اگرچہ ریونیو میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد یعنی 190 ارب روپے کااضافہ ہوا، لیکن یہ رفتار مقررہ اہداف کیلیے ناکافی ثابت ہوئی۔

مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں سست آغاز نے ایف بی آر کیلیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گزشتہ سال بھی ایف بی آر نے سالانہ ہدف سے 1.

2 کھرب روپے کم ریونیو حاصل کیا تھا، آئی ایم ایف ٹیم ستمبر کے تیسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ معاشی جائزہ لیا جا سکے، جس میں ایف بی آرکی موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی کارکردگی بھی زیر غور آئے گی، ایف بی آر اس تناظر میں  کمزور کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ٹیکس حکام کے مطابق پچھلے مالی سال میں بجلی کے بلوں کے ذریعے 125 ارب روپے اکٹھے کیے گئے تھے، جو اس سال کم ہوکر 86 ارب روپے رہ گئے، جس سے شارٹ فال میں نمایاں اضافہ ہوا۔صنعتی شعبہ بھی سست روی کا شکار ہے جس سے ریونیو میں کمی آئی ہے، حکومت نے رواں مالی سال کیلیے 14.13 کھرب روپے کا سالانہ ہدف مقررکیا ہے، جس کیلیے 20 فیصد اضافہ درکار ہے۔

 ایف بی آر نے اس میں کامیابی کیلیے سخت اقدامات اور عدالتی مقدمات میں پھنسے ٹیکسزکی وصولی پر انحصار کیا تھا، تاہم گزشتہ ماہ بعض اقدامات، جیسے تاجروں کے بینک میں جمع کرائے گئے کیش کو بینکنگ ٹرانزیکشن کے طور پر قبول کرنا اور اثاثہ جات ظاہر کیے بغیر بڑی خریداری پر پابندی کے اطلاق میں تاخیر، واپس لے لیے گئے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کے بعد پریس کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ نے نفاذی اقدامات کی منظوری نہ دی تو حکومت کو 400 سے 500 ارب روپے کے اضافی ریونیو اقدامات کرنے پڑیں گے۔ دوسری جانب دو ماہ میں انکم ٹیکس کی مد میں 695 ارب روپے اکٹھے کیے گئے،جو ہدف کے مطابق ہیں، جبکہ سیلز ٹیکس سے 625 ارب روپے حاصل ہوئے، جو ہدف سے 65 ارب روپے کم ہیں۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 113 ارب روپے جمع ہوئے، مگر یہ بھی ہدف سے کچھ کم رہے۔کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی 200 ارب روپے تک جا پہنچی، جو ہدف سے زائد ہے۔ اگست میں ایف بی آر نے ماہانہ 951 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 887 ارب روپے جمع کیے، جو 12 فیصد اضافہ تو ظاہرکرتا ہے مگر حکام کے مطابق یہ رفتار قابل تشویش ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر نے کھرب روپے کے مطابق اگست میں ارب روپے شارٹ فال مالی سال روپے کا

پڑھیں:

سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ

عالمی و مقامی مارکیٹوں میں منگل کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی بلین مارکیٹ میں سونا 46 ڈالر کے اضافے سے 4540 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گیا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی فی تولہ سونا 4600 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے پر جاپہنچا۔

مزید پڑھیں

سونے کی قیمت میں بڑی کمی، چاندی کے نرخ بڑھ گئے

سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ

اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 3944 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے ہوگئی۔

دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت 94 روپے کے اضافے سے 8153 روپے ہوگئی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ