Express News:
2026-07-24@03:21:10 GMT

اگست میں ایف بی آر کا 65 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال

اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT

اسلام آباد:

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اگست میں 65 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا، جس کی بڑی وجوہات بجلی کے قومی گرڈ سے کم استعمال، صنعتی پیداوار میں سست روی اور نفاذی اقدامات کی واپسی قرار دی گئی ہیں۔

ایف بی آر نے اگست میں 1.7 کھرب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 1.635 کھرب روپے اکٹھے کیے، جو عبوری اعداد و شمار کے مطابق ہے۔ اعلیٰ ایف بی آر افسر کے مطابق، حتمی اعداد و شمار آنے پر شارٹ فال 45 سے 50 ارب روپے تک رہنے کا امکان ہے،اگرچہ ریونیو میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد یعنی 190 ارب روپے کااضافہ ہوا، لیکن یہ رفتار مقررہ اہداف کیلیے ناکافی ثابت ہوئی۔

مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں سست آغاز نے ایف بی آر کیلیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب گزشتہ سال بھی ایف بی آر نے سالانہ ہدف سے 1.

2 کھرب روپے کم ریونیو حاصل کیا تھا، آئی ایم ایف ٹیم ستمبر کے تیسرے ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ معاشی جائزہ لیا جا سکے، جس میں ایف بی آرکی موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی کارکردگی بھی زیر غور آئے گی، ایف بی آر اس تناظر میں  کمزور کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ٹیکس حکام کے مطابق پچھلے مالی سال میں بجلی کے بلوں کے ذریعے 125 ارب روپے اکٹھے کیے گئے تھے، جو اس سال کم ہوکر 86 ارب روپے رہ گئے، جس سے شارٹ فال میں نمایاں اضافہ ہوا۔صنعتی شعبہ بھی سست روی کا شکار ہے جس سے ریونیو میں کمی آئی ہے، حکومت نے رواں مالی سال کیلیے 14.13 کھرب روپے کا سالانہ ہدف مقررکیا ہے، جس کیلیے 20 فیصد اضافہ درکار ہے۔

 ایف بی آر نے اس میں کامیابی کیلیے سخت اقدامات اور عدالتی مقدمات میں پھنسے ٹیکسزکی وصولی پر انحصار کیا تھا، تاہم گزشتہ ماہ بعض اقدامات، جیسے تاجروں کے بینک میں جمع کرائے گئے کیش کو بینکنگ ٹرانزیکشن کے طور پر قبول کرنا اور اثاثہ جات ظاہر کیے بغیر بڑی خریداری پر پابندی کے اطلاق میں تاخیر، واپس لے لیے گئے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کے بعد پریس کانفرنس میں خبردار کیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ نے نفاذی اقدامات کی منظوری نہ دی تو حکومت کو 400 سے 500 ارب روپے کے اضافی ریونیو اقدامات کرنے پڑیں گے۔ دوسری جانب دو ماہ میں انکم ٹیکس کی مد میں 695 ارب روپے اکٹھے کیے گئے،جو ہدف کے مطابق ہیں، جبکہ سیلز ٹیکس سے 625 ارب روپے حاصل ہوئے، جو ہدف سے 65 ارب روپے کم ہیں۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 113 ارب روپے جمع ہوئے، مگر یہ بھی ہدف سے کچھ کم رہے۔کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی 200 ارب روپے تک جا پہنچی، جو ہدف سے زائد ہے۔ اگست میں ایف بی آر نے ماہانہ 951 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 887 ارب روپے جمع کیے، جو 12 فیصد اضافہ تو ظاہرکرتا ہے مگر حکام کے مطابق یہ رفتار قابل تشویش ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر نے کھرب روپے کے مطابق اگست میں ارب روپے شارٹ فال مالی سال روپے کا

پڑھیں:

حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا

اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔

(جاری ہے)

نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف