سیلاب متاثرہ گاؤں سے لارنس کالج تک: اکرام اللہ کی جدوجہد اور تعلیم سے جڑی امیدوں کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ کے رہائشی ایک نوجوان طالب علم اکرام اللہ نے اپنی زندگی کی ایسی داستان سنائی جو نہ صرف ذاتی محنت اور لگن کی عکاس ہے بلکہ بلوچستان کے ہزاروں محروم بچوں کی آواز بھی ہے۔
https://twitter.com/WENewsPk/status/1961643792643297285
سنہ 2022 میں خسنوب گاؤں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد جب لوگ کیمپسوں میں پناہ گزین تھے اس وقت ملک کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے گاؤں کا دورہ کیا۔
اس موقعے پر دیگر متاثرین کے برعکس اکرام اللہ نے وزیر اعظم سے کپڑوں، ٹینٹ یا کھانے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ان سے معیاری تعلیم کا حق مانگا۔
اکرام اللہ نے بتایا کہ ’میں نے کہا سر! ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تعلیم کی ہے۔ میرا خواب ہے کہ میں کسی اعلیٰ ادارے میں تعلیم حاصل کروں اور بڑا ہو کر اپنی قوم اور اپنے ملک پاکستان کے لیے کچھ کر سکوں‘۔
ان کی یہ خواہش وزیر اعظم شہباز شریف کے دل کو لگی اور انہوں نے اس کا داخلہ لارنس کالج گھوڑا گلی مری میں کرا دیا جہاں وہ اس وقت فرسٹ ایئر کے طالب علم ہیں۔
مزید پڑھیے: بلوچستان ہائیکورٹ میں کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم قائم، شہریوں کو گھر بیٹھے شکایات درج کرانے کی سہولت
ابتدائی دنوں میں اکرام اللہ کو معیاری تعلیم کے فرق کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں لیکن اساتذہ کی محنت اور رہنمائی سے انہوں نے نہ صرف یہ فرق پورا کیا بلکہ نمایاں کامیابی بھی حاصل کی۔ انہوں نے نویں جماعت میں 95 فیصد اور میٹرک میں 97 فیصد نمبر حاصل کیے۔
اکرام اللہ نے کہا کہ یہ میری زندگی کا سب سے فخر کا لمحہ تھا جب میں نے اپنے نتائج وزیر اعظم کو دکھائے اور انہوں نے مجھے وزیرِ اعظم ہاؤس بلا کر مبارکباد دی۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کی بلکہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے دانش اسکول قلعہ سیف اللہ کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ صرف میرے لیے نہیں بلکہ بلوچستان کے ہر بچے کے لیے تعلیمی مواقع پیدا ہوں۔ ہمارے سرکاری اسکولوں کو بہتر بنایا جائے، اساتذہ کو پابند کیا جائے کہ وہ دل سے پڑھائیں اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکالرشپ دی جائیں۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا بینک آف بلوچستان کے قیام کا اعلان
اکرام اللہ کا ماننا ہے کہ بلوچستان کے بچوں میں بے پناہ صلاحیت ہے اگر انہیں معیاری تعلیم اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنے صوبے بلکہ پورے پاکستان کے لیے روشنی کا سبب بن سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بلوچستان کا نوجوان اکرام اللہ خسنوب گاؤں سے لارنس کالج تک لارنس کالج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان لارنس کالج کہ بلوچستان کے اکرام اللہ نے لارنس کالج انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن