پنجاب میں سیلاب؛ قصور اور ملتان شدید خطرے میں، لاکھوں افراد کی نقل مکانی، بلوچستان بھی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
پنجاب میں سیلابی صورت حال سنگین ہوتی جا رہی ہے جب کہ ملتان اور قصور میں پانی داخل ہونے کے خطرات کے باعث لاکھوں افراد کی نقل مکانی ہوئی ہے، اُدھر بلوچستان بھی سیلاب کے خطرے کی زد میں آ چکا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پنجاب کے بڑے دریاؤں میں غیر معمولی سیلاب نے لاکھوں افراد کو متاثر کر دیا ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد دریائے ستلج اور دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: پنجاب: چناب، راوی اور ستلج میں سیلاب سے ہر طرف تباہی، 1769 گاؤں زیر آب، 14 لاکھ افراد متاثر، 28 جاں بحق
ناب میں بھی تیز بہاؤ کے باعث جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں کمی ضرور آئی ہے تاہم یہ اب بھی 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک سے زائد ہے جس سے قصور اور اس کے نواحی علاقے شدید دباؤ میں ہیں۔
قصور میں تاریخ کا سب سے بڑا ریلا
حکام کے مطابق 1955ء کے بعد پہلی مرتبہ قصور کے مقام پر اتنی بڑی مقدار میں پانی داخل ہوا ہے اور شہر کو بچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کا کے مطابق بھارت میں بند ٹوٹنے کے باعث آنے والا ریلا قصور کی طرف بڑھا جس نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔
مزید پڑھیں: دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے نے خبردار کر دیا
انہوں نے کہا کہ لاہور اس وقت محفوظ ہے تاہم دریائے راوی میں طغیانی کے باعث آئندہ 48 گھنٹے ساہیوال، اوکاڑہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ سمیت جنوبی اضلاع کے لیے نہایت کٹھن ثابت ہوسکتے ہیں۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں اب تک 28 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں لیکن بروقت ریسکیو کارروائیوں نے بڑے سانحے سے بچا لیا۔
ملتان میں صورتحال سنگین، 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی
دوسری جانب جنوبی پنجاب بھی پانی کے ریلوں کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ملتان کی حدود میں آج شام تک دریائے چناب کا بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے پیش نظر 3 لاکھ سے زائد افراد گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی آبی جارحیت جاری، ایک بار پھر دریائے جہلم میں پانی چھوڑ دیا
انتظامیہ نے شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دباؤ کم کیا جا سکے۔ متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی بروقت منتقلی کے انتظامات نہ ہونے پر شکایات بھی کی ہیں۔ جلالپور پیر والا کے قریب دریائے ستلج میں 50 ہزار کیوسک پانی گزرنے سے تقریباً 140 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔
راجن پور اور بہاولپور کے نشیبی علاقے بھی خطرے کی زد میں ہیں اور وہاں کے مکین نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں بھی سیلابی الرٹ جاری کیا گیا ہے جہاں نشیبی دیہات خالی کرائے جا رہے ہیں۔
یہ خبر بھی پڑھیں: چشتیاں: ستلج میں پانی کی سطح بلند، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں میں داخل، 50 کے قریب بستیاں زیرِآب
پانی کا بڑھتا دباؤ
پنجاب کے مختلف مقامات پر پانی کی صورتحال ایسی ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک اور ہیڈ اسلام پر خطرناک بہاؤ موجود ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے جہاں ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد کیوسک بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ راوی میں بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح بڑھ کر ایک لاکھ 99 ہزار کیوسک ہو گئی ہے جب کہ جسڑ اور شاہدرہ کے مقامات پر کچھ کمی آئی ہے۔
اُدھر بلوچستان میں بھی ممکنہ سیلابی خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ وزیر آبپاشی صادق عمرانی نے خبردار کیا ہے کہ 2 ستمبر کو دریائے سندھ سے آنے والا ریلا بلوچستان میں داخل ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں جعفرآباد، روجھان، اوستہ محمد اور صحبت پور کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں تین بڑے دریا سپر فلڈ کی لپیٹ میں
اس سلسلے میں نصیرآباد میں کیمپ آفس قائم کر دیا گیا ہے اور صوبائی حکومت سندھ سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
ملک بھر میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کار، پاک فوج اور رینجرز کی امدادی کارروائیاں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ہیں ۔
پنجاب کے دریاؤں کی صورتحال
ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے ۔ گنڈا سنگھ والا میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار تک پہنچا۔ دریائے ستلج سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے (پنجاب) کے اعداد و شمار کے مطابق دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں قادر آباد کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 71 ہزار کیوسک ہے۔
اعداد و شمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 46 ہزار کی اسی ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی شادرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں کمی آ رہی ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک ہے اور اضافہ ہو رہا ہے۔
دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 32 ہزار کیوسک ہے۔نالہ ڈیک کنگرا میں اونچے درجے کا سیلاب ہے ۔نالہ بئیں اور بسنتر میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ نالہ ایک اور بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی شادرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے اور بہاؤ میں کمی آ رہی ہے۔ بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک ہے اور اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے راوی ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 32 ہزار کیوسک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاکھ 38 ہزار کیوسک دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ 3 ہزار کیوسک ہے کیوسک ہے اور دریائے راوی دریائے ستلج پانی کی سطح نقل مکانی پنجاب کے ستلج میں کے مطابق ہیڈ ورکس میں پانی کے باعث گیا ہے رہا ہے رہی ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان