سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی: پنجاب میں درجنوں افراد جاں بحق، جنوبی اضلاع اور سندھ کے لیے ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
لاہور میں فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح اگرچہ بتدریج کم ہو رہی ہے، تاہم دریا اب بھی انتہائی بلند سطح کے سیلاب میں ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز یہاں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک تھا، جو اب کم ہو کر 3 لاکھ 3 ہزار 828 کیوسک رہ گیا ہے۔
راوی میں بھی بلند سطح کا سیلاببلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں 1 لاکھ 92 ہزار 545 کیوسک کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ شاہدرہ میں بھی پانی کی مقدار 1 لاکھ 46 ہزار 800 کیوسک تک جا پہنچی۔
ہلاکتیں اور ایمرجنسی اقداماتپی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کے مطابق پنجاب میں صرف جمعہ کے روز 13 افراد سمیت اب تک سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 28 ہو چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قصور کو شدید نقصان سے بچانے کے لیے ستلج میں رحیم یار خان کے مقام پر بند توڑنا ناگزیر ہو گیا تھا۔
بہاولپور میں انخلا کا عملدریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد بہاولپور کے نشیبی علاقوں میں انخلا جاری ہے۔
مقامی حکام کے مطابق بستی پھلّاں، موزہ کرنانی، عباس نگر اور پتن سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
قصور اور سرحدی دیہات کو خطرہقصور میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر شدید سیلاب کے باعث متعدد سرحدی دیہات خالی کرانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
انتظامیہ نے مان، تاتڑا، بھیڑ سوڈیاں، رسول نگر، فتوہی والا اور بزی د پور سمیت کئی دیہات کے باسیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی ہے۔
پشاور اور مانسہرہ میں موسلا دھار بارشپشاور میں رات گئے آندھی اور بجلی کے ساتھ شدید بارش ہوئی جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں جاری رہے گا۔
اسی طرح مانسہرہ اور گردونواح میں بھی بارشوں نے زندگی مفلوج کر دی، جب کہ بھیرا میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے۔
آزاد کشمیر: باغ میں ندی نالوں میں طغیانیباغ (آزاد کشمیر) میں مسلسل بارش سے محل ندی میں طغیانی آگئی جس کے باعث قریبی علاقوں کو خالی کرا لیا گیا تاکہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
بلوچستان میں الرٹبلوچستان کے وزیرِ آبپاشی صادق عمرانی نے خبردار کیا ہے کہ 2 ستمبر کو دریائے سندھ کے راستے سیلابی پانی بلوچستان میں داخل ہو سکتا ہے جس سے جعفرآباد، اوستہ محمد اور صحبت پور متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق نصیرآباد میں کیمپ آفس قائم کر دیا گیا ہے اور تمام متاثرہ اضلاع میں محفوظ مقامات کی نشاندہی ہو چکی ہے۔
سندھ میں ہائی الرٹسندھ کے وزیرِ آبپاشی جام خان شورو کے مطابق دریائے سندھ میں تین دریاؤں کا پانی داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث کچے کے علاقوں کے باسیوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے پاس بند توڑنے کا کوئی آپشن موجود نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: محفوظ مقامات کے مقام پر کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔
دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔
اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :