Express News:
2026-06-03@03:35:45 GMT

پنجاب میں تین بڑے دریا سپر فلڈ کی لپیٹ میں، 28 اموات

اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT

لاہور:

پنجاب کے تین بڑے دریا اس وقت سپر فلڈ کی لپیٹ میں ہیں اور اب تک صوبے میں 28 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں زیادہ تر گوجرانوالہ ڈویژن میں فلیش اور اربن فلڈنگ کے دوران ہوئیں جبکہ دریائے راوی اور چناب کے بالائی حصوں میں پانی کی سطح کم اور ڈاؤن اسٹریم میں بہاؤ میں اضافہ ہورہا ہے، دریائے ستلج 1955 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر ہے، جہاں قصور شہر کو بچانے کے لیے آر آر اے ون بند میں شگاف ڈالا گیا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ستلج میں پانی کا بہاؤ ساڑھے تین لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ سات دہائیوں میں سب سے بڑا ریلا ہے، ہیڈ سلیمانکی پر پانی تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ ہیڈ اسلام اور ہیڈ پنجند پر بھی خطرات موجود ہیں، بلوکی پر پانی بلند سطح پر ہے جس سے نالہ ڈیک، اوکاڑہ اور ساہیوال کے نشیبی علاقے متاثر ہوسکتے ہیں۔

چناب میں بلند ترین ریلا منڈی بہاالدین کے 40 سے زائد دیہات کو متاثر کرنے کے بعد آگے بڑھ گیا، جھنگ شہر کو بچانے کے لیے ریواز ریلوے برج توڑنے سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک دباؤ میں کمی آئی، تاہم ہیڈ تریمو پر اب بھی پانی کی سطح بلند ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے جھنگ شورکوٹ روڈ کو کاٹ کر پانی کے دباؤ کو کم کیا جبکہ اوکاڑہ، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ضلعی انتظامیہ نے نشیبی علاقوں سے انخلا مکمل کر لیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے میں 1769 موضع جات متاثر ہوئے ہیں، جہاں 1.

45 ملین افراد سیلاب کی زد میں آئے، اب تک 4 لاکھ 29 ہزار افراد اور 3 لاکھ سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ 365 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

ریلیف کمشنر پنجاب نے بتایا کہ اس وقت جاری ریسکیو آپریشن ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف آپریشنز میں سے ایک ہے جس میں فوج، پولیس اور تمام ادارے شریک ہیں۔

دریں اثنا، محکمہ موسمیات نے وسطی اور بالائی پنجاب میں شدید بارش کی نئی پیش گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، نارووال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، جھنگ، سرگودھا، میانوالی اور دیگر اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے، جس سے شہری سیلاب اور دیگر مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک حقیقت ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی بار تین بڑے دریا بیک وقت بپھرے ہیں، اس لیے عوام سے اپیل ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا