بھارت میں مادھپور ہیڈورکس کی تباہی نے پاکستان میں راوی کو بے قابو کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) بھارت کے دریائے راوی پر قائم مادھوپور ہیڈ ورکس کی اچانک خرابی کے باعث پاکستان کے زیریں علاقوں، خصوصاً لاہور میں شدید اور مسلسل سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ انگریزی اخبار میں شائع منور حسن کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے نہ تو پاکستان کو بروقت آگاہ کیا اور نہ ہی ہیڈ ورکس کے تکنیکی مسئلے پر حکام کو اطلاع دی۔
رپورٹس کے مطابق ہیڈ ورکس کے چار فلڈ گیٹس اچانک ناکام ہوگئے جس کے نتیجے میں درجنوں دیہات زیرِ آب آگئے اور وسیع زرعی رقبہ ڈوب گیا۔ کئی دہائیوں سے غفلت کے باعث 54 فلڈ گیٹس کی جدید اپ گریڈیشن نہ ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
Just IN:— Massive floods create havoc in Pakistani Punjab region.
— South Asia Index (@SouthAsiaIndex) August 27, 2025
لاہور میں دریائے راوی کے پانی کی مقدار شاہدرہ کے مقام پر 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی، جس سے ہزاروں افراد بے گھر اور کھیت کھلیان تباہ ہوگئے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق جمعرات کی شب غیر معمولی بلند سطح کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بحران بھارت کے مادھوپور ہیڈ ورکس سے قابو سے باہر پانی کے اخراج کا نتیجہ ہے جس نے لاہور کے رہائشیوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔
بھارتی مقامی حکام نے بھی اس صورتحال کو “انتہائی غفلت” قرار دیا اور کہا کہ ہر سال کروڑوں روپے دیکھ بھال پر خرچ ہونے کے باوجود مرمت تاخیر کا شکار ہے۔ موجودہ وقت میں 55 ہزار کیوسک پانی پاکستان میں داخل ہو رہا ہے جبکہ مرمت صرف پانی اترنے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
لاہور سمیت مختلف اضلاع کے دریاؤں میں طغیانی، پنجاب پولیس کاریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن مسلسل جاری
لاہور سمیت سیلاب سے متاثرہ مختلف اضلاع میں 15 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار ریسکیو آپریشن میں مصروف pic.twitter.com/1lGc0wJ1Xr
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) August 28, 2025
ماہرین کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کو پابند کرتا ہے کہ وہ بروقت سیلابی ڈیٹا کا تبادلہ کریں تاکہ نقصانات سے بچا جا سکے۔ اس بحران نے ایک بار پھر معاہدے پر سختی سے عملدرآمد اور موسمیاتی لچکدار انفراسٹرکچر کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ مزید بارشوں کی پیشگوئی کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان فوری مذاکرات ناگزیر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔