دریائے راوی کی زمین پر بنی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین کو فی کس 2 کروڑ کے قریب واپس کردیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
فائل فوٹو
لاہور میں ملتان روڈ پر دریائے راوی کی زمین پر بنائی گئی مبینہ غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے متاثرین کو 1 کروڑ 96 لاکھ روپے فی کس واپس کردیے گئے۔
ذرائع اینٹی کرپشن پنجاب کا کہنا ہے کہ غیر قانونی نجی سوسائٹی کے متاثرین کو 50 فیصد کیش، 50 فیصد کا چیک دیا گیا، ملزم پر دریا کے اندر 12 ہزار کنال زمین شہریوں کو دھوکے سے بیچنے کا الزام ہے۔
مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آیا، علی پور کی مزید کئی بستیاں زیر آب آگئیں
حالیہ سیلاب میں غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کے تمام گھر سیلابی پانی میں ڈوب گئے تھے، روڈا اور ایل ڈی اے سے دریائے راوی کی زمین پر غیر قانونی سوسائٹیوں کا ریکارڈ طلب کرلیا گیا۔
ذرائع اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ 400 سے زائد متاثرین نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کے خلاف شکایات دیں، غیر قانونی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کےخلاف چالان تیار کر لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے
پڑھیں:
آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا
آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
آکس معاہدہ کیا ہے؟آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم
اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔
منصوبے پر خدشات بھی برقراراگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔
اخراجات میں مزید اضافہآکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ