دریائے سندھ میں شدید سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے نے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے دریائے سندھ میں شدید سیلاب سے خبردار کر دیا ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق تینوں مشرقی دریاؤں میں موجود شدید سیلابی صورتحال کے باعث نشیبی دریائے سندھ میں بھی خطرناک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 سے ساڑھے 9 لاکھ کیوسک تک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے۔ گڈو بیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ متوقع ہے۔ اگر بند توڑ کر پانی کا رخ موڑ دیا گیا تو گڈو بیراج پر بہاؤ کم ہو کر ساڑھے 7 سے 9 لاکھ کیوسک تک رہ سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ سکھر بیراج پر 6 سے 7 ستمبر کے دوران 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی آنے کا امکان ہے، جب کہ کوٹری بیراج میں 8 سے 9 ستمبر کے دوران 8 سے 10 لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 12 سے 13 ستمبر تک دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، جس کے باعث زرعی زمینیں، قریبی دیہات، آبادیاں اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔
انتظامیہ نے متعلقہ اداروں اور عوام کو الرٹ رہنے اور حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ستمبر کے دوران ڈی ایم اے دریائے سندھ لاکھ کیوسک
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں