دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سیلاب
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
ستلج دریا میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سطح کا سیلاب آگیا، جی ایس والا کے مقام پر بہاؤ 3.5 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بارشوں اور بھارت کی جانب ممکنہ سیلابی ریلوں کے اخراج سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، قصور اور ملحقہ علاقوں میں انتظامیہ اور ریسکیو ادارے کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔
1955ء میں اتنا بڑا ریلا ستلج سے گزرا تھا، قصور شہر کو بچانے کے لیے آر ار اے ون کو توڑنا پڑرہا ہے، عرفان کاٹھیا
اس حوالے سے ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید اور ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی نے پریس کانفرنس بھی کہی۔ عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ دریائے ستلج 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک پر چل رہا تھا اب ساڑھے تین لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا ہے، 1955ء میں اتنا بڑا ریلا یہاں سے گزرا تھا، قصور شہر کو بچانے کے لیے آر ار اے ون کو توڑنا پڑرہا ہے، جن آبادیوں میں پانی جاسکتا ہے وہاں سے مقامی لوگوں کا انخلا کیا جارہا ہے۔
انہوں ںے کہا کہ ہیڈسلیمانیکی کے مقام پر بھی پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے، آئندہ دو روز میں وہاں پانی کی سطح مزید بلند ہوگی، شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح کم اور ہیڈ بلوکی کے مقام پر بڑھ رہی ہے، اوکاڑہ، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ انتظامیہ نے دریا کے نشیبی علاقوں سے لوگوں کا انخلا مکمل کرلیا ہے، چناب میں اس کی تاریخ کے اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلابی پانی منڈی بہاالدین کے 30 سے 40 دیہات سے گزرتا ہوا واپس دریا میں جائے گا، جھنگ شہر کو بچانے کے لیے ریواز ریلوے برج کو توڑا گیا ہے اس سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک پانی کی کمی آئی، ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ کم ہورہا ہے لیکن ڈاؤن اسٹریم پر پانی کی سطح بلند ہوگی، این ایچ اے جھنگ شور کوٹ روڈ کو بھی توڑا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تین بڑے دریا سپر فلڈ کی لپیٹ میں ہیں اور تاحال صوبے میں ابھی تک 28 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، زیادہ اموات گوجرانوالہ ڈویژن میں فلیش اور اربن فلڈنگ کے دوران ہوئیں، اب تمام توجہ ستلج پر مرکوز ہیں، آنیوالے چند گھنٹے قصور اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لیے اہم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مقام پر پانی کی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا،شہری رُل گئے۔اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی۔پیر کو کےالیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ترجمان کراچی واٹرکارپوریشن کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔ترجمان کےالیکٹرک کے مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔