شورومز کی غیرقانونی پارکنگ کیخلاف اسلام آباد میں بڑا کریک ڈاؤن
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
اسلام آباد میں شورومز کے باہر غیرقانونی پارکنگ کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے، جس میں پولیس نے شورومز انتظامیہ اور مارکیٹ یونین کو بھی شامل کر کے مشترکہ اقدامات اٹھائے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، پولیس نے سیکٹر جی نائن اور جی ایٹ میں واقع شورومز کے سامنے سڑکوں پر پارک کی گئی گاڑیوں کے خلاف آپریشن کیا۔ اس کارروائی کے دوران پولیس نے شورومز کی انتظامیہ اور مارکیٹ یونین سے ملاقات کر کے ان کو آگاہ کیا اور تعاون حاصل کیا۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق، اس آپریشن کا مقصد شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا ہے، اور غیرقانونی پارکنگ و تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ سی ٹی او اسلام آباد نے کہا کہ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو، اور شہر میں غیرقانونی پارکنگ سے پیدا ہونے والی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔
آپریشن کے دوران متعدد گاڑیاں سڑک سے ہٹا دی گئیں، اور غیرقانونی پارکنگ کے خلاف ایک واضح پیغام دیا گیا کہ قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: غیرقانونی پارکنگ اسلام ا باد کے خلاف
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔