Express News:
2026-06-03@06:41:18 GMT

مشرق کے عروج کا سورج طلوع ہو رہا ہے

اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT

چینی وزیر خارجہ کا سہ ملکی دورہ اس خطے کی سیاست میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ ترتیب کے اعتبار سے چینی وزیر خارجہ نے پہلے ہندوستان کا دورہ کیا، وہاں سے وہ سیدھے کابل پہنچے تھے، طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد چار سال میں یہ کسی بھی چینی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ افغانستان تھا اور پھر وہ وہاں سے وہ پاکستان پہنچے اور ہمارے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جہاں مختلف معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

اگر یہ کہا جائے کہ ملک کی کسی بھی وزارت کی اندرونی روداد حساس نوعیت کی ہوتی ہے تو وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کی اندرونی روداد کو حساس ترین قرار دیا جاسکتا ہے۔ وزارت خارجہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے اثرات صرف داخلی نہیں ہوتے بلکہ اس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں جو اقوام عالم میں اس قوم کا قد بڑھانے یا گھٹانے کا باعث ہوسکتے ہیں۔

 سب سے پہلی بات، ہندوستان نے میدان جنگ اور سفارتی محاذ پر شکست کھانے کے بعد یقینی طور پر اس نے اس سے سبق سیکھا اور حقیقی زمینی صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔ یہ تو حتمی طور پر کہنا ممکن نہیں کہ ہندوستان اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر بھی پائے گا یا نہیں لیکن بہرحال اس نے اس کو حاصل کرنے کی کوشش ضرور شروع کر دی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے اس نئی صورتحال کی آگہی کے نتیجے سمجھوتے کرنے شروع کر دیے ہیں۔

ہم نے تجویز کیا تھا کہ ہندوستان کے پاس سیدھا اور سہل راستہ یہ ہے کہ وہ پاکستان سے اپنے تعلقات ٹھیک کر لیں لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اس میں مودی کی سیاسی موت ہے اور اس کو وہ کبھی قبول نہیں کرے گا۔ ان حالات میں چنانچہ ہندوستان نے پاکستان سے تعلقات ٹھیک کرنے کے لیے بلاواسطہ راستے کے بجائے بالواسطہ راستے کا انتخاب کیا ہے کہ جو چین کے ذریعے آتا ہے۔

چینی سفارت کاری کے میدان کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہے اور وہ کھیل بھی حکمت عملی کے ساتھ مختصر مدت کا نہیں بلکہ طویل مدت کا کھیلتے ہیں۔ چین نے اپنی اس اعلیٰ سفارت کاری سے پہلے ہندوستان کو تنہا کیا اور پھر اس نے چانکیہ کے پیروکاروں کو عبرتناک شکست دی۔

اس شکست کے نتیجے میں ہندوستان کو بھی یقین ہوگیا کہ اب وہ مودی کی حماقتوں کی وجہ سے اس وقت دنیا میں تنہا ہوچکا ہے اور اب چین ہی ہے جو اسے اس گرداب سے نکال سکتا ہے۔ یہ چین کی ہندوستان سے لڑے بغیر ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

دنیا میں اگر کوئی تصفیہ کراتا ہے تو خود ہی اس کا پرچار شروع کردیتا ہے چاہے دونوں فریق یا کوئی ایک فریق اس کا انکاری ہی کیوں نہ ہوں۔ پاکستان اور ہندوستان کی جنگ بندی کی مثال سب کے سامنے ہیں۔ اس کے مقابلے میں چینی طریقہ کار بہت مختلف ہے۔

چین خاموشی سے تصفیہ کرواتا ہے اور الگ ہوجاتا ہے اور چین کے بجائے دنیا پرچار کرنا شروع کردیتی ہے کہ یہ تصفیہ چین نے کروایا ہے۔ ایران سعودی تنازعہ صدیوں پر محیط تھا اور پوری اسلامی دنیا یہ تصفیہ کروانے میں ناکام رہی تھی۔ ہم نے بھی نواز شریف دور میں کوشش کی تھی لیکن ناکام رہے تھے۔

اس مسئلے کو چین نے اپنی عمدہ سفارت کاری سے حل کیا کہ جس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں بڑے عرصے کے بعد سفارتی تعلقات بھی قائم ہوگئے۔ اتنا بڑا کام کرنے کے باوجود ہم نے چین کی جانب سے اس معاہدے کے حوالے سے کوئی شور و غوغا نہیں سنا۔ حالیہ ایران سعودی معاہدہ چین کی اعلیٰ سفارت کاری کی بہترین مثال ہے۔

ہندوستان کو بھی چین کی نئی حیثیت کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے، اسی لیے ہندوستان کے روایتی بیانیے میں تبدیلی دیکھی جارہی ہیں۔ پہلے ہندوستان کا بیانیہ روایتی ہٹ دھرمی پر مشتمل ہوتا تھا کہ ’’ میں نہ مانوں۔‘‘

اس کے مقابلے میں چینی وزیر خارجہ کے دورے میں ہندوستان نے نہ صرف اپنے روایتی بیانیے سے پسپائی اختیار کی ہے اور ساتھ میں وہ ایک باعزت راستہ بھی مانگتا نظر آتا ہے۔ مودی کا بیان ہے کہ ’’ بھارت منصفانہ اور باہمی قابل قبول سرحدی تصفیے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

اس کے جواب میں چینی وزیر خارجہ کا بیان خطے میں وسیع تر تبدیلیوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور چین کے نئے کردار کو بھی مستحکم کر رہا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’’ چین اور بھارت ایک دوسرے کو شراکت دار سمجھیں، دشمن یا خطرہ نہیں۔‘‘ یہ تمام اشارے خطے میں واضح اور دور رس تبدیلیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

چینی وزیر خارجہ نے اپنے دورے افغانستان میں دور رس معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ CPEC کا دائرہ افغانستان تک وسیع کردیا ہے اور اب افغانستان بھی سی پیک میں شامل ہوگیا ہے۔

اس سے افغانستان سے ہماری بھی مسابقت کا خاتمہ ہوگا اور ایک نئی شراکت داری کے دور کا آغاز ہوگا۔ دونوں ممالک پہلے اس پر متفق ہوچکے ہیں کہ وہ اپنی اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تقسیم کے وقت برطانیہ نے جو تنازعہ چھوڑا تھا، اس کے پس منظر یہ ایک بہت ہی خوش آیند پیش رفت ہے۔

 میں نے ایک پرائیویٹ اسکول سے1980 میں میٹرک کیا تھا۔ آٹھویں جماعت میں ہمیں ایک مضمون پڑھایا گیا تھا جس کا نام تھا Reawakening of East۔ اس موضوع پر برٹرینڈ رسل نے بھی لکھا ہے اور اسکول کا وہ مضمون انھیں کی تحریر سے لیا گیا تھا لیکن وہ مضمون میرے ذہن سے محو نہیں ہوتا کیونکہ اس میں مشرق کے دوبارہ جاگنے یا نشاۃ ثانیہ کا ذکر تھا اور1970 کی دہائی میں مشرق کے حالات بہت پتلے تھے، اس لیے یہ مضمون ناقابل یقین لگ رہا تھا۔

آج نجانے کیوں نہ صرف یہ مضمون مجھے یاد آرہا ہے بلکہ اس پر یقین بھی ہورہا ہے۔ میں مشرق کی جانب مشرق کے عروج کا سورج طلوع ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ آپ بھی ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مشرق کی جانب دیکھ کر بتائیں کہ کیا آپ کو بھی مشرق سے مشرق کے عروج کا سورج طلوع ہوتے نظر آرہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چینی وزیر خارجہ سفارت کاری مشرق کے رہا ہے چین کی کو بھی ہے اور

پڑھیں:

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہو گئے ہیں جسے عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے وزیر برائے چٹاگانگ ہل ٹریکٹس افیئرز خرابی صحت کے باعث مستعفی

منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے انتخاب میں ڈاکٹر خلیل الرحمان نے قبرص کے امیدوار کو شکست دے کر یہ اہم منصب حاصل کیا۔

مبصرین کے مطابق یہ کامیابی عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار، کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اس کی مضبوط ہوتی ساکھ کا مظہر ہے۔

وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مثبت کردار کا اعتراف ہے۔

مزید پڑھیے: سابق صدر بنگلہ دیش ضیاء الرحمان کی 45ویں برسی: صاحبزادے و وزیراعظم طارق رحمان کا خراج عقیدت

اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اس اہم منصب پر بنگلہ دیش کی بہترین نمائندگی کریں گے اور عالمی برادری کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں، مکالمے اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہ بنگلہ دیش کا نام مزید روشن کریں گے اور عالمی مسائل کے حل کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں چمڑے کی منڈی بحران کا شکار، مدارس اور یتیم خانوں کو خسارہ، وجہ کیا ہے؟

ڈاکٹر خلیل الرحمان جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس حیثیت میں وہ عالمی امن و سلامتی، پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حکمرانی اور دیگر اہم بین الاقوامی امور پر ہونے والے مباحث اور اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ڈاکٹر خلیل الرحمان خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب طارق رحمان کی ڈاکٹر خلیل رحمان کو مبارکباد

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی