گلگت بلتستان میں سیلابی صورتحال، ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ خواتین معاشی بحران کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
گلگت بلتستان میں جاری سیلابی صورتحال نے نہ صرف مقامی انفراسٹرکچر کو تباہ کیا ہے بلکہ سیاحت کا شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو سمیت مختلف علاقوں میں سیاحوں کی آمد قریباً بند ہو چکی ہے، جس کے باعث ہوٹل انڈسٹری سے منسلک خواتین شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 سالوں کے مقابلے میں 2025 کا سال ان کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ خواتین کاروباری حضرات نے حکومت سے فوری مدد اور بحالی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ مزید جانیے ذاکر بلتستانی کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انفراسٹرکچر تباہ تباہی خواتین مطالبہ سیلاب شعبہ سیاحت متاثر گلگت بلتستان ہوٹل انڈسٹری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انفراسٹرکچر تباہ تباہی خواتین مطالبہ سیلاب شعبہ سیاحت متاثر گلگت بلتستان ہوٹل انڈسٹری وی نیوز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔