پشاور میں خواتین کے تنازع پر فائرنگ سے دو سگے بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
پشاور کے علاقے گھڑی قمردین میں خواتین کے تنازع پردوبھائیوں سمیت ایک ہی خاندان کے 3 افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور کے علاقے گھڑی قمر دین میں خاتون روٹ کر میکے آئے ہوئی تھی جس پر بہنوئی نے سسرال پر فائرنگ کی اور دو سالوں سمیت تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ حملہ کی اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگیا۔
واقعے کے بعد لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کیلیے اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ پولیس نے موقع سے شواہد اکھٹے کیے۔
پولیس کے مطابق تہرے قتل کا واقعہ جاوید آباد گھڑی قمردین کے علاقے میں پیش آیا ہے جہاں مستورات تنازعہ پر زبانی تکرار کے بعد مخالفین نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں فریق اول سے محمد شعیب، علی خان اور وقاص ولد محمد اعجازگولیاں لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کا کہناہے کہ فائرنگ کا الزام یاسین اور وسیم خان پر عائد کیا گیا ہے۔
اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھی اورنعشوں کو پوسٹمارٹم رپورٹ کےلئے منتقل کیاگیا۔
پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے گولیوں کے خالی خول ودیگر شواہد اکٹھی کرکے ملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے شروع کردیئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔