پختونخوا؛ پولیس وین پر حملہ اور آبادی پر مارٹر گولہ لگنے سے اہلکار سمیت 2 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
پختونخوا کے دو مختلف اضلاع میں دہشت گردوں کے پولیس وین پر حملے اور آبادی پر مارٹر گولہ پھینکنے کے نتیجے میں ایک اہلکار سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق کوہاٹ کے تحصیل لاچی کے علاقے درملک میں پولیس چوکی کے قریب پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار موقع پر شہید جب کہ 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
ایمرجنسی کی اطلاع ریسکیو 1122 کوہاٹ کنٹرول روم کو موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیموں نے بروقت رسپانس کیا اور تمام پوليس اہلکاروں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ٹائپ ڈی اسپتال لاچی منتقل کر دیا جہاں سے دو پولیس اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال کوہاٹ منتقل کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق آپریشن کی نگرانی سینئر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کوہاٹ محمد عارف خٹک اور ایمرجنسی آفیسر حضرت نواب خان خود کررہے ہیں۔
دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں اہلکار اشفاق شہید جب کہ کانسٹبل یاسر اور شفقت محمود زخمی ہوئے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ کوہاٹ میں دہشتگردوں نے پولیس وین پر حملہ کیا، پولیس ٹیم سرچ آپریشن سے واپس آرہی تھی، جوانوں نے دہشتگردوں کے حملے کو ناکام بنایا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے فائرنگ کی، حملے میں اے ایس آئی اشفاق شہید ہوگئے۔
دوسری جانب تحصیل لوئی ماموند کے علاقے گوہاٹی میں آبادی پر ماٹر گولہ لگنے سے ایک شخص شاکر اللہ شہید جبکہ ایک شخص نیاز محمد زخمی ہوگئے۔
حکام کے مطابق زخمی کو علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار منتقل کردیا گیا جب کہ
شہید شاکیر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
تحصیل لوئی ماموند کے مختلف علاقوں غاخی، نختر اور گواٹی سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔