جنوبی وزیرستان: بارش کے باعث گھر کی چھت گرگئی، خاتون 2 بیٹیوں سمیت جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
جنوبی وزیرستان میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون دو بیٹیوں سمیت جاں بحق ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق جنوبی وزیرستان اپر کی تحصیل سراروغہ کے علاقہ اسپین مزک بٹیکائی میں مکان کی چھت گرگئی جس سے ماں اپنی دو کمسن بیٹوں سمیت جاں بحق ہوگئی۔
جنوبی وزیرستان اپر لدھا سب ڈویژن کے اسسٹنٹ کمشنر شادمان صافی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تحصیل سراروغہ اسین مزک بٹیکائی میں گذشتہ رات مسلسل بارشوں کی وجہ سے کچے مکان کی چھت گری ہے جس سے ماں دو بیٹیوں سمیت جاں بحق ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی اطلاع صبح سویرے موصول ہوئی کیونکہ واقعہ دور دراز علاقے میں پیش آیا ہےجس کے فوری بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ کردی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنوبی وزیرستان سمیت جاں بحق
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔