مریم نواز کا قصور میں فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ: خواتین اور بچوں سے ملاقات، مسائل سنے
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لیے مسلسل چوتھے روز بھی فیلڈ میں سرگرم رہیں۔ آج انہوں نے قصور کے ڈی پی ایس اسکول میں قائم فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے متاثرہ خواتین اور بچوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے، دلاسہ دیا اور ان کی دل جوئی کی۔
ریلیف کیمپ میں موجود ایک خاتون نے ریسکیو ٹیم کی بروقت کارروائی پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف سیلاب سے بحفاظت نکالا گیا، بلکہ محفوظ کیمپوں تک بھی پہنچایا گیا، ہم وزیراعلیٰ کی شکر گزار ہیں۔
بچوں سے محبت بھرا لمحہ
کیمپ کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے بچوں سے خاص وقت گزارا۔ انہوں نے بچوں کو گود میں بٹھایا، ان سے خوشگوار انداز میں بات چیت کی اور وائٹ بورڈ پر نام لکھنے والے بچوں کو انعامات بھی دیے، جس سے کیمپ کا ماحول ایک لمحے کو خوشیوں سے بھر گیا۔
مریضوں کی عیادت اور طبی سہولیات کا جائزہ
مریم نواز نے کیمپ میں قائم عارضی اسپتال میں زیر علاج متاثرین کی عیادت کی، ان سے خیریت دریافت کی اور طبی عملے کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑے گی۔
ریلیف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ
حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی گئی کہ قصور کے 29 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، 18,300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 36,129 مویشی بچائے جا چکے ہیں، فلڈ ریلیف کیمپ میں اس وقت 60 خاندانوں کے 312 افراد رہائش پذیر ہیں۔
کیمپ میں کھانے، پینے، رہائش، تعلیم اور تفریح کے تمام انتظامات موجود ہیں۔ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے جبکہ کھیل کود کے لیے الگ میدان بھی مختص ہے۔
مزید بتایا گیا کہ کیمپ میں موجود 3 ڈاکٹرز اور طبی عملہ مسلسل خدمات سرانجام دے رہا ہے، اور اب تک 170 افراد کو علاج کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں