سچ پوچھئے ‘ تو اب ذہن میں صرف سوالات ہی سوالات ہیں۔ ہر طرح بلکہ ہر نوعیت کے بد رنگے، کڑوے سوال۔ گزشتہ چند دہائیوں سے طاقتور طبقہ نے زبردستی ملک کو جو کچھ بنا ڈالا ہے‘ اس صورت حال میں‘ اب تو کسی لکھی‘ ان لکھی بات کا جواب بھی نہیں چاہیے، ضرورت ہی نہیں رہی۔
اگر صرف حقیقت جاننے کی معمولی سی خواہش‘ آپ کی زندگی ‘ شخصیت یا مستقبل پر سرخ نشان لگانے کا سبب بن جائے، تو پھر کون سا سچ اور کون سا جھوٹ؟ سب کچھ ٹھیک ہے بلکہ اتنا درست ہے کہ دم گھٹتا چلا جا رہا ہے ۔ کافی عرصہ پہلے گزارش کر چکا ہوں کہ ملکی ٹی وی چینل بالکل نہیں دیکھتا۔ اکثریت کے غیر معیاری ہونے پر دو رائے نہیں۔ سیاست اور لفظی جگالی اب میڈیا کی عادت بن چکی ہے۔ بے مقصد سی لا حاصل گفتگو‘ اب واقعی برداشت کرنا مشکل ہو چکاہے۔ ہاں! سوشل میڈیا پر بہرحال نظر ڈال لیتا ہوں۔
آج کل ہر طرف سیلاب کی تباہ کاریوں کا ماتم ہو رہا ہے۔ مگر سوچنے کی بات ہے، کیا مون سون کی بارشیں اچانک ہو گئیں۔ نہیں صاحب بالکل نہیں، موسمیات کے تمام ماہرین‘ عرصے سے ہر ایک کو آگاہ کر رہے تھے، اس بار غیرمعمولی بارشیں ہوں گی۔ اس کا منطقی نتیجہ صرف اور صرف مہیب سیلاب ہوں گے۔
ہندوستان نے تو خیر کافی تیاری کر لی، لیکن کیا ہمارے ملک کے غیر سنجیدہ حکمرانوں اور ان کے طبلچیوں نے میڈیا پر آ کر‘ قوم کو اعتماد میں لیا‘ کہ قیامت صغریٰ برپا ہونے والی ہے؟ قطعاً نہیں۔ کیا ملک کی نوکر شاہی نے اپنے تئیں بھرپور تیاری کر لی کہ تباہ کن سیلاب کے دوران انسانی ہلاکتوں کو کیسے کم سے کم کیا جائے؟ دونوں جگہ‘ ایسا رویہ دیکھنے کو ملا‘ جسے کم سے کم منفی الفاظ میں ’’ادنیٰ‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ آج بھی یہی صورت حال ہے۔ ’’ وزیر اعظم کا حالیہ بیان کہ آبی ذخائر بنانے میں صوبوں میں مشاورت کا عمل اب ضروری ہے‘‘۔
شاید معاملات کی سنگینی کی ترجمانی نہیں کرتا۔ آپ تو اس ملک کے حکمران ہیں۔ سرکاری مشینری آپ کے ماتحت ہے، پھر اتنی تاخیر کیوں؟ کیا سیلابی علاقوں کا فضائی دورہ‘ زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر نہیں؟ مگر صاحب! کسی قسم کی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔ مگر ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ حکومت اور سرکاری اداروں نے کمال حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور آج بھی سیلاب میں ڈوبی ہوئی بدقسمت قوم کی خدمت جاری و ساری ہے؟ اس وجہ سے اب پوچھنا عجیب سا لگتا ہے۔ کہ اس مہیب صورت حال سے نپٹنے کی پیش بندی کیوں نہیں کی گئی؟ خیر دو چار لفظ لکھنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ پڑھنے کی نوبت اور پھر عمل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
عرض کرتا چلوں کیا اس قیامت خیز آفت کا ملک کے بالائی طبقے پر کوئی اثر پڑا ہے؟ بالکل نہیں۔ کچھ دن پہلے لندن سے ایک تاریخ دان آئے ہوئے تھے۔ ان کے اعزاز میں لاہور کے ایک بہترین سماجی کلب میں ایک مختصر سی دعوت تھی۔ ہال میں ہم فقط چار پانچ افراد تھے جو اس تقریب میں شامل تھے۔ مگر پورا ہال جس میں سو کے قریب افراد کے کھانے کا معمول کا اہتمام تھا۔ کچھا کچھ بھرا ہوا تھا۔ میک اپ میں لتھڑی ہوئی خواتین ‘ ہر عمر کے بچے‘ مرد ‘ بوڑھے ۔ ہر طرح کے لوگ موجود تھے۔ بتاتا چلوں کہ ان کا ہماری تقریب سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
بوفے میں ستر کھانے لگے ہوئے تھے۔ پاکستانی‘ چائنز‘ اٹالین ‘ تھائی‘ کونٹی نینٹل‘ جنھیں شمار کرنا تک مشکل تھا۔ اکثر افراد حد درجے بدتہذیبی سے بوفے کی ٹیبل سے کھانے لے کر وہیں طعام شروع کر بیٹھے تھے۔ روایت کے مطابق‘ میوزک بینڈ بھی موجود تھا۔ جہاں چند گائیک‘ خاصے غیر مناسب طریقے سے اچھے گانوں کا اپنی آواز سے تیا پانچا کرنے میں مصروف تھے۔ ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس ملک میں کوئی قدرتی آفت صدیوں سے نازل ہی نہیں ہوئی۔ دل چاہتا تھا کہ گلا پھاڑ پھاڑ کر بتاؤں کہ جناب‘ یہ رنگ رلیاں تو دہائیوں سے چل رہی ہیں۔
کلب سے صرف پندرہ میل دوری پر دریائے راوی قیامت برپا کر چکا ہے۔ لوگ دربدر ہو چکے ہیں۔ مگر شاید‘ میری آواز کو سننے کے لیے کوئی بھی تیار نہ ہوتا۔ دو گھنٹے بعد غیر ملکی مہمانوں کے ہمراہ باہر آیا تو ان کا ایک ہی سوال تھا،کیا واقعی آپ کے ملک میں پانی بربادی برپا کر چکا ہے؟اگر یہ سچ ہے؟ تو پھر شہر کے یہ لوگ اتنے بے حس کیوں ہیں‘ کہ انھیں کھانے اور خوشی کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا؟ میرے پاس اس مشکل سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ مجھے تو ایسے لگا کہ لوگ خوش ہو کر وارفتگی سے کہنا چاہ رہے ہیں۔ سیلاب مبارک؟ پانی مبارک؟
سامنے کی بات ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کی ایک بھیانک واردات کے بعد‘ ہندوستان نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا۔ لفظوں کا ہیر پھر ہے۔ انھوں نے اسے مکمل طور پر غیر مؤثر کر ڈالا مگر اس شدید ناانصافی کے جواب میں ‘ پاکستان کی حکومت نے کیا اقدام اٹھائے؟ چند لکھے لکھائے بیانات اور محدود سا ناتواں احتجاج ‘ اس کے علاوہ کیا ہوا۔ کیا یہ لازم نہیں تھا کہ کسی بڑے طاقتور فریق کو شامل کر کے ہندوستان سے صرف اور صرف سندھ طاس معاہدے کی بحالی پر دلیل سے مذاکرات کیے جاتے ۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اول تو کوئی بھی کامیاب ملک‘ ہمارے تنازعات کو گود لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
اگر آج امریکا‘ اپنے فائدے کے لیے ہندوستان سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے۔ تو اس سے ہمارا کوئی مفاد حل نہیں ہو گا۔ امریکی قیادت ‘ صرف اور صرف اپنے ملکی مفادات کی حفاظت کرتی ہے۔ ہمارے جیسے ملک ان کے مفادات کی حفاظت کرتے کرتے اپنی سالمیت تک کھو دیتے ہیں۔ ہنری کسنجر کی یہ بات بالکل درست ہے۔ کہ ’’امریکا کی دشمنی خطرناک ہے۔ مگر اس کی دوستی اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے‘‘۔یہ بات ہمیں کبھی بھی سمجھ نہیں آتی۔ بات سندھ طاس معاہدے کی ہو رہی تھی۔ بامقصد مذاکرات کے بجائے‘ ہمارے چند فارغ العقل افراد نے یہاں تک فرمایا کہ اگر ہندوستان نے ہمارے حصے کا پانی روکا‘ تو ہم اس کے آبی ذخائر اڑا ڈالیں گے۔
ان کو ادراک ہی نہیں تھا کہ چانکیہ کے فلسفہ پر کاربند ہندوستانی حکومت‘ آبی جارحیت کو ایک نئے رخ سے پیش کرے گی۔ یہی ہوا۔ ہندوستان نے بارشوں کے پانی کو حد درجہ مہارت سے اپنے ڈیمز میں ذخیرہ کیا۔ جب انھیں ان اضافی پانی کی ضرورت نہیں رہی۔ تو سفاکی سے وہ پانی‘ پنجاب کے ان تین دریاؤں میں چھوڑ دیا جن کا کنٹرول عملی طور پر انھی کے پاس ہے۔پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہوں‘ کہ سیٹلائٹس کی موجودگی اور ان کی مفصل طریقے سے معلومات فراہم کیے جانے کے باوجود‘ ہماری حکومت اور ادارے کیوں بے خبر رہے؟ سب کے علم میں ہے کہ ہمارے پاس ایسے ذرایع موجود ہیں کہ ہم خلا سے ہندوستان کے آبی ذخائر پر کڑی نظر رکھ سکتے تھے۔ اسپارکو کا اور کیا کام ہے؟ مگر صاحبان‘ تباہی کا تندہی سے استقبال کیا گیا۔
انتظار کیا گیا کہ ہندوستان اپنے منفی مقصد میں کامیاب ہو۔ ایسا ہی ہوا۔ پنجاب کا زرخیز ترین علاقہ‘ پانی کی قدرتی گزر گاہ میں تبدیل کر دیا گیا۔ راوی کے اردگرد ‘ جن بااثر لوگوں کے رہائشی علاقوں اور پروجیکٹس کو بچانے کے لیے عام دیہاتوں اور علاقوں کی طرف پانی کا رخ موڑ دیا گیا۔ مگر قدرت کا انصاف دیکھیے۔ سب کچھ کرنے کے بعد بھی یہ مقتدر لوگ ‘ پانی کو نہیں روک پائے۔ مکمل طور پر بے بس نظر آئے۔ ان کا مالی نقصان تو ابھی شروع ہوا ہے۔ آگے آگے دیکھیے۔ راوی اپنے علاقے کا قبضہ کیسے واپس لیتا ہے؟
صاحبان! ابھی تو پانی سندھ جا رہا ہے۔ جہاںکی حکومت پر سنجیدہ سوالات ہیں ۔ جو حکومت ‘ کراچی کا کچرہ نہیں اٹھا سکی۔ اس نے سیلاب کے منہ زور پانی سے کیا لڑنا ہے۔ وہاں تو یہ سب کچھ سیاسی کھیل کا حصہ بن جائے گا۔ اندرون سندھ کی تباہ کاریوں کو پیش کر کے‘ امداد وصول کرنے کی معصوم کوشش کی جائے گی۔ پھر تمام حکومتوں کی روایت کے مطابق ‘ امداد‘ تلاش گمشدہ کا شکار ہو جائے گی۔ تمام باخبر لوگوں کومون سون کی غیر معمولی بارشوں کا مکمل علم تھا۔
لوگوں اور ان کی املاک کی حفاظت کرنے کی مہلت بھی تھی مگر سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔بلکہ اب تو یہ گمان ہوتا ہے کہ اس تباہ کاری میں چاندی ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ نئے آبی ذخائر بنانا تو دور کی بات۔ نئے ڈیمز پر ایسی ایسی حماقت انگیز گفتگو کی گئی کہ سارا معاملہ ہی چوپٹ ہو گیا۔ اگر نئی نہریں واقعی بن جاتیں تو کیا چولستان سرسبز نہ ہو جاتا؟ لیکن ہر معاملہ کو کمال عیاری سے متنازعہ بنایا گیا۔ جب سب کچھ برباد ہو گیا۔ تو فضائی دوروں سے اپنے آپ کو مستعد ظاہر کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی۔مگر اب عوام کا درد اتنا بڑھ چکا ہے کہ اس پر عامی مرہم کام نہیں کر سکتا۔ ہوش کے ناخن لیجیے ۔ سندھ طاس معاہدے پر ہمسایہ ملک سے سنجیدہ مذاکرات کریں۔ ورنہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہندوستان نے نہیں تھا نہیں ہو سب کچھ رہا ہے تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔