بچوں میں ’ڈیجیٹل ڈیمینشیا‘ کا بڑھتا ہوا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
جدید دور میں ’ڈیجیٹل ڈیمینشیا‘ تیزی سے ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل ڈیمینشیا دراصل دماغی کمزوری اور یادداشت کی خرابی کی ایک ایسی حالت کو کہا جاتا ہے جو ضرورت سے زیادہ موبائل فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر کے استعمال کے باعث پیدا ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل ڈیمینشیا کیا ہے؟جرمن نیورو سائنسدان ڈاکٹر مینفرڈ اسپٹزر نے 2012 میں پہلی بار اس اصطلاح کو متعارف کروایا۔ ان کے مطابق زیادہ وقت گیجٹس پر گزارنے والے بچے اور نوجوان وہی علامات دکھانے لگتے ہیں جو عام طور پر بڑی عمر کے افراد میں ڈیمینشیا کے دوران سامنے آتی ہیں، جیسے بھولنے کی بیماری، فیصلہ سازی میں مشکل اور ذہنی کارکردگی کی کمی۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل کی لت یا ڈیجیٹل نشہ، ماہرین نے جان چھڑانے کا طریقہ بتا دیا
وجوہاتماہرین کے مطابق بچوں میں ڈیجیٹل ڈیمینشیا کی سب سے بڑی وجہ حد سے زیادہ اسکرین ٹائم ہے۔ بچے دن کے کئی گھنٹے موبائل فون اور ویڈیو گیمز پر گزار دیتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو یادداشت اور توجہ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ نیند کی کمی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے، جبکہ جسمانی سرگرمیوں اور سوشل سرگرمیوں سے دوری بھی بچوں کو ذہنی طور پر غیر فعال بنا دیتی ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر سحرش افتخار نے کہاکہ جب بچے اپنا زیادہ وقت ورچوئل دنیا میں گزارتے ہیں تو وہ حقیقی زندگی کی سرگرمیوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہی رویہ ان کی دماغی نشوونما کو سست کر دیتا ہے اور چھوٹی عمر میں ہی یادداشت کی کمزوری پیدا کر دیتا ہے۔
ڈاکٹر سحرش افتخار کے مطابق ڈیجیٹل ڈیمینشیا کے شکار بچے پڑھائی میں توجہ نہیں دے پاتے اور اکثر معمولی باتیں بھی بھول جاتے ہیں۔ زیادہ اسکرین ٹائم کے باعث ان کی نیند متاثر ہوتی ہے جس سے چڑچڑاپن، تھکن اور بے سکونی بڑھ جاتی ہے۔ طویل عرصے تک یہی عادات دماغی کارکردگی کو سست کر دیتی ہیں اور بچے فیصلہ سازی یا مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔
بچاؤ کیسے ممکن ہے؟ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین اگر بروقت اقدامات کریں تو بچوں کو اس مسئلے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے بچوں کے لیے اسکرین ٹائم محدود کرنا ضروری ہے تاکہ وہ گیجٹس پر گھنٹوں نہ گزاریں۔ دوسری جانب کھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کی عادت ڈالنے سے ان کی توانائی مثبت انداز میں استعمال ہوتی ہے۔
’فیملی کے ساتھ وقت گزارنا اور کتاب بینی یا تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی بھی بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے بچاتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نقصان دہ نہیں ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ بچے اسے کس مقصد اور کس حد تک استعمال کرتے ہیں۔ والدین اگر اعتدال پیدا کر لیں تو یہی ٹیکنالوجی سیکھنے اور تخلیق میں مددگار بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طلبا کے لیے اسکول میں موبائل فون کتنا کارآمد ہے؟
ماہرین متفق ہیں کہ اگرچہ ’ڈیجیٹل ڈیمینشیا‘ کوئی باضابطہ طبی بیماری نہیں ہے لیکن اس کی علامات حقیقی ہیں۔ والدین کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں میں توازن پیدا کریں تاکہ نئی نسل یادداشت اور ذہنی کمزوری کے مسائل سے محفوظ رہ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسکرین ٹائم بچے بھولنے کی بیماری تحقیق جدید دور جرمن سائنسدان ڈیجیٹل ڈیمینشیا غیرنصابی سرگرمیاں والدین کی ذمہ داری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکرین ٹائم بچے بھولنے کی بیماری ڈیجیٹل ڈیمینشیا غیرنصابی سرگرمیاں والدین کی ذمہ داری وی نیوز ڈیجیٹل ڈیمینشیا اسکرین ٹائم
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔