کوئٹہ:

بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر 31 اگست 2025ء کو 44 ٹریفک حادثات رونما ہوئے جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 77 افراد زخمی ہوگئے۔

میڈیکل ایمرجنسی ریسپانس سینٹر کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ حادثات ژوب اور خضدار کی شاہراہوں پر رپورٹ ہوئے، جہاں بالترتیب 11 اور 10 ٹریفک حادثات پیش آئے۔

رپورٹ کے مطابق قومی شاہراہ این-50 ژوب پر 11 حادثات میں 22 افراد زخمی ہوئے جبکہ این-25 خضدار پر 10 حادثات میں 15 افراد زخمی ہوئے۔

اسی طرح این-25 مستونگ پر 4 حادثات میں 5 افراد زخمی ہوئے۔ قومی شاہراہ این-25 قلات،این-50 زیارت، ژوب اور این-65 سبی پر دو، دو حادثات رپورٹ ہوئے جن میں مجموعی طور پر 12 افراد زخمی ہوئے۔

مزید برآں، قومی شاہراہ این-25 لسبیلہ، وندر، سرانان، این-50 شیرانی اور سوراب پر ایک، ایک ٹریفک حادثہ پیش آیا۔ اسی طرح این-8 کیچ، این-85 پنجگور، واشک، بارکھان اور این-40 نوشکی پر بھی ایک، ایک حادثہ رپورٹ ہوا جن میں مجموعی طور پر 20 افراد زخمی ہوئے۔

متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری، سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ان حادثات کی بڑی وجوہات ہیں شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی شاہراہوں کی حالت بہتر کی جائے اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افراد زخمی ہوئے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی