تباہ کن بارشیں اور سیلاب، اقوام متحدہ کا پاکستان میں غذائی بحران اور مہنگائی کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اقوام متحدہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ پاکستان میں جاری تباہ کن بارشوں اور شدید سیلابوں کے نتیجے میں ملک کو خوراک کی شدید قلت اور مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مسلسل طوفانی بارشوں اور سیلابی ریلوں نے پنجاب سمیت ملک کے بڑے حصوں میں کھڑی فصلیں تباہ کر دی ہیں، دیہات، اسکول اور ہیلتھ سینٹرز زیرِ آب آگئے ہیں جبکہ درجنوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیلابی تباہ کاریوں کے باعث شرح نمو صفر کے قریب گرنے کا خدشہ، سابق وزیر خزانہ نے خبردار کردیا
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 50 افراد جاں بحق اور 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 7 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ شمال مشرقی پنجاب میں فصلوں اور مویشیوں کی بڑی تباہی کے بعد اب پانی جنوبی علاقوں کی طرف بڑھ رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں سندھ کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
This isn’t normal—yet it’s becoming the new normal.
— Mo Yahya (@Momalindi) August 31, 2025
اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ اور ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر مو یحییٰ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ معمول نہیں ہے لیکن اب یہ نیا معمول بنتا جا رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث مون سون اب پاکستان میں خوف اور تباہی کی علامت بن چکا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں دھان کی کھیتیاں جتنی دور تک نظر جاتی ہیں سب پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور کسان آئندہ کئی ماہ تک کسی آمدنی یا نئی فصل کے بغیر رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: تاریخ میں پہلی بار سیلاب متاثرین کی نشاندہی کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال
کسان بورڈ پاکستان کے سیکریٹری جنرل وقار احمد نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیلاب نے پنجاب میں چاول، گنا اور تل جیسی اہم فصلیں تباہ ہوگئیں ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 70 فیصد کھڑی چاول کی فصل برباد ہوچکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر بھارت مزید پانی چھوڑتا ہے تو باقی ماندہ فصلیں بھی شدید نقصان کا شکار ہوجائیں گی۔
Flooded rice fields stretch as far as the eye can see. Farmers now face months without crops or income until the next planting season. #FloodImpact #pakistan pic.twitter.com/nUg3PTmvkm
— Mo Yahya (@Momalindi) August 31, 2025
اسی طرح پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ وحید احمد نے کہا ہے کہ تازہ ترین سیلابوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سبزیوں اور پھلوں کی بھاری مقدار کو نقصان پہنچایا ہے جس سے ملک میں اشیائے خورونوش کی مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغانستان اور ایران سے پھل اور سبزیوں کی درآمد پر عائد ٹیکسز ختم کیے جائیں تاکہ غذائی قلت پر قابو پایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اقوام متحدہ انتباہ پاکستان سیلاب غذائی بحران مہنگائی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ انتباہ پاکستان سیلاب مہنگائی اقوام متحدہ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔